بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
وقف زمین کا تبادلہ کرنا
سوال
ایک شخص نے مسجد کے لیے پلاٹ وقف کیا ہے، لیکن ابھی تک اس پرنہ باجماعت نماز پڑھی گئی ہےاورنہ ہی اس پرکوئی تعمیرہوئی ہے، وقف شدہ پلاٹ کے ساتھ اس مالک کا دوسرا پلاٹ بھی ہے، اب مالک یہ چاہتا ہے کہ اس موقوفہ پلاٹ پرگھر کی تعمیر کی جائے، اور دوسرے پلاٹ پر مسجد بنائی جائے،کیا مالک کے لیےاس پلاٹ کا کسی دوسرے پلاٹ سے تبادلہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے مسجد کے لیے وقف شدہ زمین کا وقف اس وقت تام ہوتا ہے جب واقف کی اجازت سےاس میں کم ازکم ایک بارنماز باجماعت ادا ہو جائے، چنانچہ اگرکسی جگہ ایک مرتبہ بھی نمازباجماعت ادا نہ ہوچکی ہو تو وقف تام نہ ہونے کی وجہ سےمالک کے لیے اس میں تصرف کرنےاور تبادلہ کرنے کی گنجائش ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگروقف شدہ پلاٹ پر واقعی ابھی تک باجماعت نماز ادا نہ ہوچکی ہو، اورنہ ہی کوئی تعمیرہوئی ہوتومالک کےلیےاس پلاٹ کو دوسرے پلاٹ کے ساتھ تبدیل کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
الوقف إخراج المال عن الملك على وجه الصدقة، فلا يصح بدون التسليم كسائر التصرفات.۔۔۔۔ثم التسليم في الوقف عندهما أن يجعل له قيما ويسلمه إليه، وفي المسجد أن يصلي فيه جماعة بأذان وإقامة بإذنه كذا ذكر القاضي في شرح الطحاوي وذكر القدوري۔رحمه الله۔ في شرحه أنه إذا أذن للناس بالصلاة فيه فصلى واحد كان تسليما. (بدائع الصنائع، كتاب الوقف،فصل في شرائط جواز الوقف، ج: 6، ص: 219)
من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة فيه. أما الإفراز، فلأنه لا يخلص لله تعالى إلا به، كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، ج:2، ص:408)
(قوله:بجماعة)لأنه لا بد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف، وتسليم كل شيء بحسبه، ففي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف، واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد.( ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، ج: 4، ص:357)