بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سونے میں گزشتہ سالوں کی زکوۃادا کرنے کا طریقہ


سوال

 ایک عورت نے گزشتہ اکتیس سال سے سونے کی زکوۃ ادا نہیں کی  ہے، برائے مہربانی زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ سکھائیں؟

جواب

جب کوئی شخص بقدرِ نصاب مال کا مالک بن جائےتو جب تک وہ صاحبِ نصاب رہے تب تک اس پر ہر سال تمام اموالِ زکوۃ میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔ لہذا اگر کسی نے صاحبِ نصاب بننے کے بعد کئی سال تک زکوۃ ادا نہ کی ہو تو اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہوگا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال کی زکوۃ کے لیے اس سال موجود تمام اموالِ زکوۃ (سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت)  سے ڈھائی فیصد کا حساب لگا لیاجائے، پھر اگلے سال اس ڈھائی فیصد کو منفی کرکے بقیہ مال کے ڈھائی فیصد کا حساب لگا لیا جائے، اسی طرح ہرسال کی زکوۃ کا حساب لگانے کے لیےاس سے پچھلے سال کی زکوۃ کو منفی کر کے بقیہ مال کے ڈھائی فیصد کا حساب لگایا جائے، اور پھر تمام سالوں کی واجب شدہ زکوۃ کا مجموعہ ادا کرے۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت نے جس سال سے سونے کی زکوۃ ادا نہیں کی ہے، پہلےاس سال میں موجود سونے سے ڈھائی فیصد سونے کا حساب لگائے پھراگلے سال کی زکوۃ کے لیے اس ڈھائی فیصد سونے کو منفی کرکے بقیہ سونے کے ڈھائی فیصدکا حساب لگائے اس طرح ہرسال کی زکوۃ کے لیےپچھلے سال کی زکوۃ منفی کر کے بقیہ سونے کے ڈھائی فیصد کا حساب لگایا جائے۔ اسی طرح تمام سالوں کی زکوۃ کاحساب لگانے کے بعد اس کے مجموعہ کو معلوم کرے، جتنا سونا بن جائے، وہ سونا یا اس کی قیمت کسی مستحق زکوۃ شخص کو تملیکاً دے دے۔اگر چند سالوں کی زکوۃ منفی کرنے کے بعد بقیہ سونا نصاب سے کم رہ جائے تواس کی زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں۔ 

إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرون مثقال ذهب فلم يؤد زكوته سنتين يزكي السنة الأولى و كذا هكذا في مال التجارة و كذا في السوائم۔ (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة ،ج:2، ص:7)

 


فتویٰ نمبر : 10840/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور