بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
نادانی یا لاعلمی میں کلمہ کفر کہنے سےایمان اور نکاح پر اثر
سوال
ہمارے گاؤں کے مندر میں مغرب کے وقت ایک گیت گایا جاتا تھا جو اب بھی گایا جاتا ہے، اس گیت کا ایک کفریہ جملہ یہ ہے (سیتا مہا دیوا) اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اب سے چھ یا سات سال پہلے کبھی کبھی اس گیت کا یہ کفریہ جملہ میں زبان سے نادانی میں کہہ دیا کرتا تھا لیکن پہلے سے ہی میرا اس کفریہ جملے پر یقین بالکل نہیں ہے بس غالبا بطور نقالی میں یہ جملہ کہہ دیا کرتا تھا، یا شاید نا دانی میں ایسے ہی زبان سے کہہ دیاکرتا تھا، لیکن آج چھ سال بعد پھر یہی جملہ کان میں پڑا تو ذہن میں یہ بات آئی کے یہ جملہ تو کفریہ ہے اور میں نے چھ سال پہلے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کئی مرتبہ کہا ہے، لیکن اسکے بعد سے لیکر آج تک میں نے نہ معلوم کتنی ہی مرتبہ کلمہ شہادت پر ایمان رکھتے ہوے دل سے کلمہ شہادت پڑھتا رہتا ہوں اور ایمان مفصل بھی پڑھتا رہتا ہوں، تو اب میرے ایمان و نکاح کا کیا حکم ہے؟ نیز میرا نکاح چھ مہینے پہلے ہی ہوا تھا، اور کلمہ شہادت وایمان مفصل میں نکاح سے پہلے بھی بہت مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کوئی ایسا کلمہ زبان سے کہہ دے جس کے اعتقاد سے کفر لازم آتا ہو، اور اس کو یقینی طور پر معلوم بھی ہوکہ یہ کلمہ کفر ہے تو اس سے وه دائره اسلام سے خارج ہوگا، اس لیے اس پرایمان اور نکاح کی تجدیدبھی لازم ہوگی۔ البتہ اگر کوئی شخص غلطی یا لاعلمی سے کفریہ کلمہ زبان سے ادا کرے اور اسے یہ علم نہ ہوکہ ایسے کلمات سے انسان کافر ہوجاتاہے، تو اس صورت میں وہ کافر نہیں ہوگا۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر واقعی سائل نے نادانی اور لاعلمی میں یہ جملہ ”سیتا مہا دیوا“ (وفاداری اور قربانی کی عظیم دیوی) کہا ہو، اورسائل کا مقصد اس سے کسی شرکیہ عقیدہ کا اقرار نہ ہوبلکہ محض حکایۃ ًیہ جملہ اس کے زبان پر آگیا ہو، تواس سے وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوا، تاہم آئندہ اس قسم کے کلمات سے اجتناب کرے، اور احتیاطاً توبہ واستغفار بھی کرے۔
وأما الجاهل إذا تكلم بكفر ولم يدر أنه كفر اختلفو فيه، قال بعضهم: لا يكون كفرا ويعذر بالجهل، وقال بعضهم: يصير كافرا ولا يعذر بالجهل.(الفتاوى الهندية، كتاب السير، باب مايكون كفرا من المسلم وما لا يكون، ج:9، ص:425)
وما كان في كونه كفرا اختلاف يؤمر قائله بتجديد النكاح والتوبة احتياطا، وما كان خطأ لا يؤمر إلا بالاستغفار والرجوع عنه. (الفتاوى البزازية، كتاب الفاظ تكون إسلاما،أوكفرا، أو خطأ، الفصل الثاني فيما يكون كفرا من المسلم وما لا يكون، ج:3، ص:179)