بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
غیر اختیاری طور پر کلمہ کفر کہنا
سوال
اگر کسی شخص نے غیر اختیاری طور پر کلمہ کفر کہا اور کہتے وقت اس کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا بول رہا ہےیعنی ذہن پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے کفریہ جملہ زبان سےبلا نیت نکل گیا پھر اسی لمحے فوراً ذہن میں آیا کہ میں نے یہ کیا کہہ دیا ہے اور فوراً استغفراللہ کہا،اب اس کے ایمان ونکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر غلطی سے کوئی کفریہ کلمہ زبان سے نکل جائے تو اس کی وجہ سے بندہ کافر نہیں ہوتا،البتہ کفریہ جملہ اگرارادے سے کہے لیکن اس سے کفر لازم ہونے کا علم نہ ہو تو یہ جہالت اس کے لیے عذر نہیں ہے اس صورت میں تجدید ایمان اور نکاح دونوںضروری ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص کی زبان سے کلمہ کفر بغیر ارادے کے نکل جائےتو اس سے وہ شخص کافر نہیں ہوتا،لہذا ایمان اور نکاح برقرار رہے گا،تاہم توبہ واستغفار ضروری ہے ۔
قال في البحروالحاصل:أن من تكلم بكلمة للكفرهازلا أولاعبا كفرعندالكل ولااعتبارباعتقاده كما صرح به في الخانيةومن تكلم بها مخطئاأومكرها لا يكفرعندالكل،ومن تكلم بها عامداعالماكفرعندالكل ومن تكلم بهااختيارا جاهلابأنهاكفرففيه اختلاف......أن مايكون كفرااتفاقايبطل العمل والنكاح،ومافيه خلاف يؤمر بالاستغفاروالتوبةوتجديدالنكاح.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الجهاد،باب المرتد،ج:4،ص: 230،224)