بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

والد کی زندگی میں وفات ہونے والی بیٹی کی اولاد کا میراث میں حصہ


سوال

اگر بیٹی باپ سے پہلے فوت ہوجائے تو بیٹی کی اولاد وراثت میں حصہ دار ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر بیٹی کا انتقال والد کی زندگی میں ہوجائے اور والد بعد میں فوت ہو جائے جب کہ اس کے بیٹے یا بیٹیاں موجود ہوں تو  مرحومہ بیٹی کی اولاد کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔البتہ اگر دیگر ورثا عاقل و بالغ ہوں اور وہ برضا وخوشی مرحومہ بیٹی کی اولاد کو کچھ دیں تو ایسا کرنا جائز اور باعث اجر وثواب ہے۔

 

وشروطه: ‌ثلاثة: ‌موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه.(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الفرائض،ج:6،ص:756)


فتویٰ نمبر : 3793/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور