بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عقیقہ کرنے کے بعد جانور کی عمر میں شک واقع ہونا


سوال

ایک شخص کے گھرچھ  سال پہلے ایک لڑکی پیدا ہوئی اور اس نے اس لڑکی  کے عقیقے میں ایک بکرا ذبح کرلیا ،بعد میں اسے شک ہوگیا ،کہ وہ بکرا سال  کا تھا یا نہیں ،تو کیا اب دوبارہ عقیقہ کرے گا یا وہ عقیقہ کافی ہے؟اور اب اس شخص کی دوسری بیٹی پیدا ہوگئی ہے اور اس کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے، تو اگر  پہلی بیٹی کا عقیقہ دوبارہ کرنا ضروری ہو،تو کیا اس دوسری  بیٹی کے عقیقے میں اس کی نیت کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عقیقہ ایک مستحب عمل ہے ،قربانی کی طرح واجب نہیں البتہ جس نے عقیقہ کرنا ہو تو پھر عقیقہ کے  جانور کے لیے وہی شرائط ہیں  جو قربانی کے جانور کے لیے ہیں ،اس لیے عقیقہ کا بکرا ایک سال کا ہونا چاہیے۔

صورت مسئولہ میں جب ایک مرتبہ  عقیقہ کرلیا ،تو بعد میں شک پڑنے کی وجہ سے دوبارہ کرنا ضروری نہیں کیونکہ عقیقہ مستحب ہے واجب نہیں، نیز چونکہ عقیقے کا بکرا ایک ہی بچے یا بچی کی طرف سے ہوتا ہے ،اس لیے دوسری بیٹی کے عقیقہ میں پہلی بیٹی کی نیت نہ کرے۔

 

‌العقيقة عن الغلام وعن الجارية وهي ذبح شاة في سابع الولادة وضيافة الناس وحلق شعره مباحة لا سنة ولا واجبة كذا في الوجيز للكردري.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة،ج:5،ص:362)

‌يستحب ‌لمن ‌ولد ‌له ‌ولد ‌أن ‌يسميه ‌يوم ‌أسبوعه ‌ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا، والله تعالى أعلم.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الأضحية،خاتمة۔ج:6،ص:336)


فتویٰ نمبر : 10765/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور