بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تجارت اور قرض پر دی ہوئی رقم میں زکوۃ


سوال

ایک شخص نےنو سال پہلےکسی کوبارہ  لاکھ کاروبار  کے لیے دیے تھے اور اس کے ساتھ چار  لاکھ بطور قرض حسنہ بھی دیے تھے،ابھی تک ان پیسوں میں کچھ نہیں ملا ہے اور نہ اس کاروبار والے  پیسوں سے کوئی منافع آیا ہے،تو اب اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟ آیا یہ شخص ہر سال ان پیسوں کا  زکوۃ ادا کرے گا یا جب مل جائے تو ادا کرے گا؟اور جب سارے اکھٹے مل جائیں  تو صرف جس سال ملے ہیں اس سال کی  زکوۃ ادا کی جائے گی، یا گذشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ تجارت میں لگائی گئی رقم اگر نصاب تک پہنچ جائے تو  سال گزرنے پر اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر اسی مال سے تجارت کے مقصد کے لیے سامان خریدا گیا ہو تو اس سامان کی بازاری قیمت کے حساب سے اس پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینا واجب ہے۔ اسی طرح اگر رقم تجارت میں استعمال نہ ہوئی ہو تب بھی اس میں سے  سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہے۔ نیز اگر کسی کا مال قرض کے طور پر کسی دوسرے شخص کے پاس موجود ہو اور وہ اس کا اقرار بھی کرتا ہو تو ایسی صورت میں اس مال پر  سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؛ البتہ ادائیگی تب واجب ہوگی جب قرض وصول کر لیا جائے۔ اگر قرض وصول ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو وہ زکوٰۃ ادا  ہو جائے گی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر سائل  نے کاروبار کے لیے بارہ لاکھ روپے دیے ہوں اور ساتھ چار لاکھ روپے بطورِ قرضِ حسنہ بھی دیے ہوں تو   اس تمام رقم کی  زکوۃ لازم ہے ؛ البتہ وصول ہونے سے پہلے ادا کرنا ضروری نہیں۔ جب یہ رقم وصول ہو جائے تو گذشتہ تمام سالوں کا حساب لگا کر  زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہوگا۔

 

‌وأما ‌أموال ‌التجارة ‌فتقدير ‌النصاب ‌فيها ‌بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الزكاة،فصل أموال التجارة،ج: 2،ص:20)

(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم.

(قوله: عند قبض أربعين درهما) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لا تجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج فكذلك لا يجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين. اهـ.(رد المحتار على الدر المختار ،كتاب الزكاة،باب زكاة المال،ج:2،ص:305)

ففي الدين القوي لا يلزمه الأداء ما لم يقبض أربعين درهما فإذا قبض هذا المقدار أدى درهما وكذلك كلما قبض أربعين درهما وفي الدين المتوسط لا يلزمه الأداء ما لم يقبض مائة درهم فحينئذ يؤدي خمسة دراهم.(المبسوط للسرخسي، کتاب الزکوۃ،باب زکوۃالمال،ج:2،ص:195)


فتویٰ نمبر : 10760/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور