بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
داڑھی کترنے والے حجام کا مستقل مؤذن بننا
سوال
اگر کوئی شخص حجام ہولوگوں کی داڑھیاں کاٹ رہا ہواوران پر استرا پھیر رہا ہو،تو اس کےلیے مسجد میں مستقلا آذان دینے کاکیا حکم ہے؟کیا وہ مستقل مؤذن بن سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی روشنی میں داڑھی تمام انبیاءبشمول حضرت محمدﷺ، کی مستقل سنت ہے،جس طرح خود اس کاکاٹنا حرام ہےاسی طرح کسی دوسرے سے کٹوانا بھی حرام اورگناہ کبیرہ ہے، اور جو شخص گناہ کبیرہ پر مصر(اصرار کرنے والا )ہو،وہ " فاسق "کہلاتا ہے،نیزواضح رہے کہ فاسق شخص کا ایک آدھ نماز کےلیے آذان دینا جائز ہے،اس کا اعادہ بھی واجب نہیں ،البتہ فاسق شخص کے مستقل مؤذن بننے کی شرعا گنجائش موجود نہیں ، بلکہ مستقل مؤذن بننے کی صورت اس کی دی ہوئی آذان کا اعادہ کیا جائے گا۔
صورت مسئولہ کے مطابق ایسےحجام کو جولوگوں کی داڑھیاں کاٹ رہا ہو اوران پر استرا پھیر رہا ہو،مستقل مؤذن بنانا جائزنہیں ،البتہ اگر ایک آدھ نمازکےلیے آذان دے تو شرعا اس کی گنجائش موجود ہے۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: 63]
الفسق:بالكسر وسكون السين المهملة في اللغة عدم إطاعة أمر الله تعالى فيشتمل الكافر والمسلم العاصي. وفي الشرع ارتكاب المسلم كبيرة أو صغيرة مع الإصرار عليها. فالمسلم المرتكب للكبيرة أو المصرّ على الصغيرة يسمّى فاسقا. (كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، حرف الفاء، ج: 2، ص: 1273)
قال في "الفروع": ويحفُّ شاربه؛ خلافاً لمالك، أو يقصُّ طرفه، وحفُّه أولى في المنصوص؛ وفاقاً لأبي حنيفة والشافعي، ولا يمنعُ منه مالك.وذكر ابن حزم الإجماع: أن قص الشارب وإعفاء اللحية فرضٌ. (كشف اللثام شرح عمدة الأحكام، كتاب الطهارة، باب المزي وغيره، الحديث السادس، ج: 1، ص: 357)
وجزم المصنف بعدم صحة أذان مجنون ومعتوه وصبي لا يعقل. قلت: وكافر وفاسق لعدم قبول قوله في الديانات. [قال ابن عابدين في آخر هذا البحث:] ثم الظاهر أن الإعادة إنما هي في المؤذن الراتب، أما لو حضر جماعة عالمون بدخول الوقت وأذن لهم فاسق أو صبي يعقل لا يكره ولا يعاد أصلا لحصول المقصود تأمل.( رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب الأذان، ويعاد أذان جنب وإقامته...، ج: 1، ص: 394-393)
ويكره أذان الفاسق ولا يعاد. هكذا في الذخيرة.( الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثاني، الفصل الأول في صفة الأذان وأحوال المؤذن، ج: 1، ص: 54)