بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
تجارت کی نیت سےخریدےگئےپلاٹ پر زکوۃ
سوال
ایک پلاٹ دس سال پہلےتجارت کی نیت سے خریداتھا۔ابھی اس پلاٹ کو بیچتا ہو ں تو اس میں زکوۃہوگی یا نہیں اگر ہوگی تو کس حساب سے دی جائے گی؟
جواب
پلاٹ کواگر تجارت کی نیت سے خریداہوتو نصاب کی مقدار تک پہنچنے کی صورت میں اس پر زکاۃ واجب ہوگی،اگر کسی پلاٹ پر کئی سالوں کی زکاۃ باقی ہوتو ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا بایں طور پر کہ اولا پہلے سال کی زکاۃ کا حساب لگائے پھر اس مقدارزکاۃ کو کل قیمت سے منہا کرکے بقیہ میں سےدوسرے سال کی زکاۃکا حساب لگائےپھر اس مقدار زکاۃ کوبھی قیمت سے منہا کرکے بقیہ میں سے تیسرے سال کی زکاۃ کا حساب لگائے ،اسی طرح تمام سالوں کی زکاۃکاحساب لگایا جائے گا۔
صورتِ مسئولہ میں دس سال پہلے تجارت کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ میں درج بالا وضاحت کے مطابق تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے
قلت فإذا أخذها بعد سنين قال يزكيها للسنة الأولى خمسا وعشرين درهما فهذه زكاة الألف ويزكي السنة الثانية ألفا غير خمسة وعشرين، قلت: فإن توالت عليه سنون زكى لأول سنة ألفا كاملا ثم ينقص في كل سنة تلك الزكاة التي زكى أبدا كذلك حتى تنقض من مائتي درهم قال نعم وليس في أقل من مائتي درهم زكاة ولا صدقة. (الأصل لمحمد بن الحسن، كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 82)
(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض فتصير للتجارة بلا نية صريحا. (رد المحتارعلى الدرالمختار،كتاب الزكاة،ج: 2،ص: 267)