بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ کے بارے میں مشہور چند اعتراضات کے جوابات
سوال
زید امام طبری رحمہ الله جن کی "تاریخ طبری" اور "تفسیر طبری" معروف و مشہور ہے، ان کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ رافضی تھے اور انہوں نے اپنی "تاریخ" اور "تفسیر" میں انبیاء علیہم الصلوة والسلام کی "عصمت" کے خلاف روایتیں نقل کی ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے نبیوں کی "توہین" کی ہے خصوصا حضرت آدم علیہ السلام،حضرت یوسف علیہ السلام،حضرت داؤد و سلیمان علیہما السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی توہین کی ہے؟، کیا زید کی ذکر کردہ باتیں درست ہیں؟ اور کیا امام طبری رحمہ الله نے واقعی مذکورہ بالا انبیاء علیہم السلام کی "توہین" کی ہے اور کیا انہوں نے ایسی خلاف عصمت روایات نقل کی ہیں؟، اگر انہوں نے "توہین" نہیں کی تو انبیاء علیہم السلام کے بارے میں انہوں نے ایسی روایات کیوں نقل کی ہیں، برائے مہربانی تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ امام طبری کی تعریف وتوثیق میں اصحاب جرح وتعدیل یک زبان ہیں،جیسا کہ علامہ ا بن كثير اپنی کتاب " البداية والنهاية" میں علامہ ابن جریر طبریؒ کی تعریف وتوثیق میں لکھتے ہیں :
وكان حافظا لكتاب الله، عارفا بالقراءات كلها، بصيرا بالمعاني، فقيها في الأحكام، عالما بالسنن وطرقها، وصحيحها وسقيمها، وناسخها ومنسوخها، عارفا بأقوال الصحابة والتابعين ومن بعدهم، عارفا بأيام الناس وأخبارهم. وله الكتاب المشهور في تاريخ الأمم والملوك، وكتاب في التفسير لم يصنف أحد مثله. (البداية والنهاية، ثم دخلت سنة عشر وثلاثمائة، وممن توفي فيها من الأعيان، أبو جعفر بن جرير الطبري، ج: 11، ص: 145)
اسی طرح علامہ ابن خلکان رحمہ اللہ " وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان" میں فرماتے ہیں:
وكان ثقة في نقله، وتاريخه أصح التواريخ وأثبتها، وذكره الشيخ أبو إسحاق الشيرازي في طبقات الفقهاء في جملة المجتهدين. (وفيات الأعيان، حرف الميم، ابن جرير الطبري، ج: 4، ص: 191)
اور علامہ خطیب بغدادی ؒ اپنی کتاب"تاریخ بغداد" میں لکھتے ہیں کہ :
وكان قد جمع من العلوم ما لم يشاركه فيه أحد من أهل عصره، وكان حافظا لكتاب الله، عارفا بالقراءات بصيرا بالمعاني، فقيها في أحكام القرآن، عالما بالسنن وطرقها صحيحها وسقيمها وناسخها ومنسوخها، عارفا بأقوال الصحابة والتابعين، ومن بعدهم من الخالفين في الأحكام، ومسائل الحلال والحرام، عارفا بأيام الناس وأخبارهم. (تاريخ بغداد، باب ذكر من اسمه محمد، حرف الجيم، ذكر الأسماء المفردة من آباء المحمدين في هذا الحرف، محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب أبو جعفر الطبري، ج: 2، ص: 548 )
اس کےعلاوہ علامہ حافظ ذہبی ؒ فرماتےہیں کہ :
محمد بن جرير بن يزيد بن كثير الطبري: الإمام، العلم، المجتهد، عالم العصر، أبو جعفر الطبري، صاحب التصانيف البديعة.(سير أعلام النبلاء، الطبقة السابعة عشر، محمد بن جرير بن يزيد بن كثير الطبري، ج: 14، ص: 267)
الغرض کتب رجال کی طرف مراجعت کرنے سے یہ بات خوب معلوم ہوتی ہے علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ ایک قابل اعتبار اورثقہ سنی عالم اور مصنف تھے، البتہ ان کے بارے میں " تشیع "کاجوقول منقول ہے اس کے بارے میں حافظ ذہبی "میزان الاعتدال" میں فرماتےہیں:
"ثقة صادق فيه تشيع [يسير] وموالاة لا تضر"(ان میں معمولی سا تشیع اور (اہل بیت) سے موالات تھی جو مضر نہیں) ۔(ميزان الاعتدال، حرف الميم، محمد بن جحادة [ع] من ثقات التابعين، ج: 3، ص: 499)
نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ "سیر اعلام النبلاء" میں اس بات کو مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتےہیں:
"وكان ابن جرير من رجال الكمال، وشنع عليه بيسير تشيع، وما رأينا إلا الخير". (کہ امام ابن جریر ؒ صاحب کمال آدمیوں میں سے تھے،اور اس پر تھوڑا تشیع کا الزام لگایا ہےلیکن ہم نے اس میں خیر ہی دیکھا ہے). (سير أعلام النبلاء، الطبقة السابعة عشر، محمد بن جرير بن يزيد بن كثير الطبري، ج: 14، ص: 277)
نیز یاد رہے کہ علامہ طبری ؒ پر تشیع کا الزام اگردرست بھی مان لیا جائےتوبھی آپ کو" رافضی" کہنا درست نہیں ہے،کیونکہ علامہ طبری تیسری صدی ہجری کے عالم تھے،اورپہلی صدی ہجری سے تیسری صدی ہجری کے اواخر تک "تشیع" کا مطلب آج کل جیسی شیعیت اوررافضیت نہ تھا جس کی بنیاد صحابہ سے بے زاری پر ہو،اس دور میں تشیع کا مطلب موالات اہل بیت(اہل بیت کی طرف میلان اورجھکاؤ)اور حضرت علی رضی اللہ کو فضائل ومناقب کے لحاظ سےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے افضل ماننا تھا،جبکہ صحابہ کو برا بھلا کہنے والے طبقے کو "رافضی "کہا جاتا تھا،بخاری ومسلم سمیت صحاح ستہ کے تمام مؤلفین کے شیوخ میں ایسے حضرات موجود تھے جن کےبارے میں کتب جرح وتعدیل"رمي بالتشيع، فيه تشيع، يا كان يتشيع"کہتے ہیں، مگر وہ نہ بدعتی تھے اور نہ رافضی تھے،ان کا تشیع عقائد کے لحاظ سے مضر نہ تھا،اس لیے ان حضرات کی امانت ودیانت میں کوئی شک نہ تھا۔ الغرض، امام ابن جریر طبری کے بارے میں اگر "تشیع" کا قول مان لیا بھی جائے،پھر بھی اس کی حقانیت وثقاہت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
ان کی تفسیر " جامع البيان عن تأويل آي القرآن"اورتاریخ " تاريخ الرسل والملوك" اپنی نوعیت کی بہترین کتابیں ہیں ، علامہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
وله الكتاب المشهور " في تارخ الأمم والملوك "، وكتاب في " التفسير " لم يصنف أحد مثله، وكتاب سماه " تهذيب الآثار " لم أر سواه في معناه إلا أنه لم يتمه، وله في أصول الفقه وفروعه كتب كثيرة، واختيار من أقاويل الفقهاء...وبلغني عن أبي حامد أحمد بن أبي طاهر الفقيه الإسفرائيني، أنه قَالَ: لو سافر رجل إلى الصين حتى يحصل له كتاب تفسير محمد بن جرير. (تاريخ بغداد، باب ذكر من اسمه محمد، حرف الجيم، ذكر الأسماء المفردة من آباء المحمدين في هذا الحرف، محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب أبو جعفر الطبري، ج: 2، ص: 548 )
اور علامہ جلال الدین سیوطی ؒ اپنی مشہور ومعروف کتاب"الاتقان فی علوم القرآن" میں لکھتے ہیں کہ :
قلت تفسير الإمام أبي جعفر بن جرير الطبري الذي أجمع العلماء المعتبرون على أنه لم يؤلف في التفسير مثله. قال النووي في تهذيبه: كتاب ابن جرير في التفسير لم يصنف أحد مثله. (الإتقان في علوم القرآن، النوع الثمانون: في طبقات المفسرين، ج: 4، ص: 244)
اسی طرح خیر الدین زرکلی ؒ اپنی مشہور کتاب"الأعلام للزركلي"میں علامہ طبری کی تفسیر اورتاریخ کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ :
وهو من ثقات المؤرخين، قال ابن الأثير: أبو جعفر أوثق من نقل التاريخ، وفي تفسيره ما يدل على علم غزير وتحقيق. وكان مجتهدا في أحكام الدين لا يقلد أحدا، بل قلده بعض الناس وعملوا بأقواله وآرائه. (الأعلام للزركلي، حرف الميم، ابن جرير الطبري، ج: 6، ص: 69)
رہی یہ بات کہ "آپ رحمہ اللہ نے اپنی "تاریخ" اور "تفسیر" میں انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے خلاف روایتیں نقل کی ہیں وغیرہ"،توتحقیق سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر چہ امام طبری ؒ کی کتابوں میں انبیا اور صحابہ کرام کے بارے میں نامناسب الفاظ والی روایات منقول ہیں ،لیکن ان کی بنا پر امام موصوف ؒ کی طرف انبیا اورصحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی توہین کی نسبت کرنا درست نہیں ہے ،کیونکہ امام طبری ؒ سےاگر کچھ ثابت بھی ہےوہ نقل وحکایت کی بنیاد پر ہے، لہذا محض ایسے کلمات نقل کرنے سے نہ کوئی گستاخ بنتا ہےاور نہ ہی سنیت سے نکل کر رافضی بنتا ہے، بشرطیکہ اس حرام یا کفریہ قول وفعل کی تائید نہ کی جائے،ایسے کلمات کو نقل کرتےہوئے الفاظ استعاذہ(نعوذباللہ من ذلک، العیاذ باللہ) کہنا بہتر ضرور ہے،لیکن اگر کسی مصنف نے ان الفاظ استعاذہ کے بغیر ہی ان کلمات کو نقل کیا تو خلافِ اولی کام کیا ،اس کی بنا پر اس کے بارےمیں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ خود ان بے ہودہ کلمات پر راضی ہے یا وہ اس کی تائید کرتا ہے۔نیز حافظ ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے انتہائی دیانت و امانت اور صاف گوئی کے ساتھ اپنی تاریخ کے شروع میں فرما دیا ہے کہ :
فما يكن في كتابي هذا من خبر ذكرناه عن بعض الماضين مما يستنكره قارئه، أو يستشنعه سامعه، من أجل أنه لم يعرف له وجها في الصحة، ولا معنى في الحقيقة، فليعلم انه لم يؤت في ذلك من قبلنا، وإنما أتى من قبل بعض ناقليه إلينا، وإنا إنما أدينا ذلك على نحو ما أدي إلينا.(میری اس کتاب میں جو بھی روایت ایسی ہوجسے ہم نے بعض پہلے گزرنے والوں کی طرف سےذکر کیا ہے،جس کو پڑھنے والا عجیب سمجھتا ہو یا اس کاسننے والا اسے برا سمجھتا ہو، بایں وجہ کہ اس نے اس کی صحت کی کوئی معقول وجہ اور حقیقی معنی نہ سمجھا ہو،تو اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ بات ہماری طرف سے نہیں آئی ہے،بلکہ وہ بعض نقل کرنے والوں کی طرف سےآئی ہے،ہم نے تو وہ خبر اسی طرح پہنچادی ہے جس طرح وہ ہم تک پہنچی).(تاريخ الطبري، خطبة الكتاب، ج: 1، ص: 8)