بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مایوسی میں نازیبا الفاظ کہنا
سوال
ایک شخص اپنے حالات سے مایوس ہوکرکہتا ہے کہ لوگوں کا 30 ہزار میں گزارہ ہو رہا ہے اورمیرا ایک لاکھ میں گزارہ نہیں ہوتا، میں بھی حرام کمائی شروع کرتا ہوں،رشوت لینا شروع کرتا ہوں، نمازیں چھوڑتا ہوں،ہوسکتا ہےمیرا کام ٹھیک ہو جائے،شاید میں الٹا لگاہوں،مطلب اس کا یہ ہےکہ ہوسکتا ہے ،یہ سب کام کرنا اور نمازچھوڑنا ٹھیک ہو، ساتھ میں یہ بھی کہتا ہےکہ بے شک میں ہمیشہ کےلیےدوزخ میں جل جاوں لیکن بس مجھے موت آجائے، ایسا کہنے والے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کاایمان باقی رہے گا، نیزاگرشادی شدہ ہےتو کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگرکوئی آدمی شریعت کی حرام کردہ چیز وں کےحلال ہونے کااور حلال کردہ چیزوں کےحرام ہونےکااعتقاد نہ رکھتا ہو،بلکہ صرف حرام کے ارتکاب کا عزم اور قصد کرتا ہو ،تو اس سے وه عنداللہ ماخوذ ہوتا ہے اور اگر حرام کا ارتکاب کرتا ہو تو اس سے آدمی فاسق ہوتا ہے ، لیکن کافر نہیں ہوتا ، ہاں اگر کوئی آدمی کسی حرام چیز کے حلال ہونے یا حلال چیز کے حرام ہونے کا اعتقاد رکھے ،تو اس سے وہ آدمی دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔
لہذا صورت ِ مسئولہ میں مذکور ہ شخص حرام کی کمائی ،رشوت لینے اور نمازیں چھوڑنے کے قصد اور عزم کی وجہ سے عنداللہ ماخوذ ہوگا ،اس کو توبہ اور استعفار کرنا چاہیئے ،اور اگر اس نے حرام کی کمائی، رشوت لینے اور نمازیں چھوڑنے کا ارتکاب کیا ،تو اس کی وجہ سے فاسق ہو جائے گا ،اس کو توبہ اور استغفار کرنا چاہیئے ،اور جتنی نمازیں چھوڑ دی ہوں اس کی قضاء کرے گا،اور جو مال حرام کی کمائی اور رشوت سے حاصل کیاہو اس کو بلا نیتِ ثواب فقراء پر صدقہ کرے گا،نیز دنیاوی مصائب کی وجہ سے موت کی تمناّ کرنا مکروہ ہےليكن موجب کفر نہیں ،اس کی وجہ سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے ۔
وقال بعض أهل الحقائق: الهمّ همّان، همّ ثابت وهو إذا كان معه عزم وعقد ورضى، مثل هم امرأة العزيز، والعبد مأخوذ به، وهمّ عارض وهو الخطرة وحديث النفس من غير اختيار ولا عزم، مثل هم يوسف عليه السلام، والعبد غير مؤاخذ به ما لم يتكلم أو يعمل. (تفسير البغوي ،سورة یوسف ،آيت :24، ج:2،ص:419)
وقول الرجل لا أصلي يحتمل أربعة أوجه: أحدها: لا أصلي لأني صليت، والثاني: لا أصلي بأمرك، فقد أمرني بها من هو خير منك، والثالث: لا أصلي فسقا مجانة، فهذه الثلاثة ليست بكفر.والرابع: لا أصلي إذ ليس يجب علي الصلاة، ولم أؤمر بها يكفر .( الفتاوى الهندية، کتاب السیر، ج:2،ص:280)
سئل أبو بكر عمن تمنى الموت هل يكره قال إن تمنى الموت لضيق عيشة أو لغضب دخل من عدو أو يخاف ذهاب ماله أو نحو ذلك فإنه يكره له ذلك وإن تمنى لتغير أهل زمانه فيخاف من نفسه الوقوع في المعصية لا بأس به. كذا في الحاوي للفتاوى . (الفتاوى الهندية ،كتاب الكراهية،ج:5،ص:436)