بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

احکام اسلام کی اپنی طرف سے تشریح و تأویل کرنے والے شخص کا حکم


سوال

1)اگر کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ جس نماز کا قرآن میں ذکر آیا ہے ،وہ یہ نہیں ہے جو لوگ پڑھتے ہیں ،بلکہ نماز کا صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ کے روزمرہ کے معاملات درست ہوں، مثلا جھوٹ نہ بولنا ،زنا سے دور رہنا ،کسی کو نا حق قتل نہ کرنا ،نظر کی حفاظت کرنا وغیرہ ،یہ اصل نماز ہے ۔

(2) اسی طرح زکوۃ کے بارے میں ا س کا خیا ل اور عقیدہ یہ ہو کہ زکوۃ کا مقصد یہ ہے کہ جتنے پیسے  آپ نے کمائے ہیں ،اس میں سے جتنے پر آپ کا گزارہ ہوجاتا ہے وہ اپنے پاس رکھوگے اور باقی تمام پیسوں کو فقراء اور غریبوں میں تقسیم کروگے ۔(3)یہ بھی کہتا ہو کہ  حج  مسلمانوں کے سالانہ میٹنگ کا نام  ہے جس میں مسلمانوں کے لیڈرز جمع ہوکر مسلمانوں کے مشترکہ مسائل پر بحث کرکے ان کو حل کریں گے ۔(4)عمرہ کے بارے میں کہتا ہو کہ عمرہ یہ نہیں ہے جو لوگ جا کر حرم میں طواف کرتے ہیں ،بلکہ عمرے کا مقصد یہ ہے کہ ایمرجنسی میٹنگ جس میں مسلمانوں کے سربراہان جمع ہوکر مسلمانوں کے مشترکہ معاملات کے با رے میں بات کریں گے۔(5) اسی طرح یہ عقیدہ بھی رکھتا ہو کہ  قبر کا عذاب نہیں ہے کیونکہ قرآن میں اللہ نے انسان کے دو دفعہ مرنے اور زندہ ہونے کی بات کی ہے اگر قبر میں عذاب ہوتا ،تو تیسری مرتبہ زندگی اور موت کی بات بھی ذکر ہوتی ۔

تو ایسے  عقائد رکھنے والے شخص کا اسلام میں  کیا حکم  ہے ،اور اس کے ساتھ تعلق رکھنا کیسا ہے ؟کیا گھر والوں کے لیے اس کے ساتھ ترک تعلق جائز ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ احکام اسلام  جس طرح قرآن  مجید سے ثابت ہوتے ہیں  اسی طرح سنت رسول ﷺ  سے بھی  احکام اور ان کی تفصیلات ثابت ہوتی ہیں،جس طرح قرآن  اللہ تعالی کی طرف سے نازل شدہ  ہے اسی طرح احادیث مبارکہ بھی اللہ تعالی کی جانب سے  ہیں ، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے  کہ  آپ ﷺ جو ارشاد فرماتے ہیں ،یہ اپنی خواہش  سے نہیں بولتے بلکہ یہ و حی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے ،اسی طرح ایک اور جگہ اللہ جل شانہ کا  ارشاد ہے : کہ جو کچھ تمہیں رسولﷺ دیں، اسے لے لو اور جس سے تمہیں منع کریں، اس سے رک جاؤ ، معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے اقوال و افعال امت کے لیے حکم ربانی کی حیثیت رکھتی ہے ۔احادیث مبارکہ سے انکار دین کے بیشتر حصے سے انکار کرنا  ہے ،جس کی وجہ  سے بندہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا  ہے،   شریعت کے  بہت سارے احکام ایسے ہیں جن کا  قرآن میں صراحتا ذکر   ہے لیکن طریقہ اور تفصیل قرآن میں موجود  نہیں ہے ،بلکہ  احادیث مبارکہ اور رسول اللہ ﷺ کی عملی  زندگی سے تفصیلی طریقہ معلوم ہوا ہے  ،مثلا ً  اللہ تعالی  نے قرآن میں نماز پڑھنے کا حکم تو دیا ہے لیکن طریقہ اور تفصیل قرآن میں  نہیں  بلکہ وہ احادیث مبارکہ میں تفصیل سے موجود ہے  ،اب اگر کوئی  شخص محض اس وجہ سے  نماز  کے معروف طریقے کا  انکار کرے  کہ قرآن میں اس  کا ذکر نہیں ،اور اپنی طرف  سےنماز کی تشریح کرے،تو حقیقت میں  وہ   احادیث  نبویہﷺ کے ماننے سے انکار کرتا  ہے،اسی طرح  زکوۃ کے بارے میں بھی قرآن نے اجمالی حکم فرمایا ہے ، جبکہ  رسول اللہ ﷺ   کی  احادیث مبارکہ میں  اس کی تفصیل منقول ہے اور آپ ﷺ نے قولی اور عملی طور پر زکوۃ وصول کرنے  کے طریقے اور اس کی مقدار کو بیان فرمایا  ، اب  زکوۃ کے اس حکم سے انکار کرنا  یا اپنی طرف سے غلط تشریح و تأویل کرنا ضروریات دین سے انکار ہے ،جو   ایمان کے لیے خطرناک ہے ،اسی طرح   حج کی فرضیت کا حکم اللہ تعالی نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا ہے،اور رسول اللہ ﷺ نے حج  کے تمام تر طریقے اپنے مبارک عمل  کے ذریعے عملی طور پر دکھائے ہیں ، اسی طرح  عمرہ  "طواف اور سعی "پر مشتمل ایک  سنت عمل ہے،اس لیے   حج کو  مسلما ن لیڈروں کا سالانہ اجلاس  کہنا  یا عمرہ کو  ایمرجنسی میٹنگ کہنا اپنی طرف سے دین میں اختراع اور خود ساختہ غلط تأویل ہے  جو نہ قرآن سے ثابت ہے  نہ حدیث سے ،لہذا نماز ،زکوۃ اور حج کے بارے میں سوال میں مذکور باتیں کرنے سے آدمی  دائرہ  اسلام  سے خارج ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص سے اگر فساد پھیلنے کا خدشہ ہو تو اس  کے ساتھ تعلقات رکھنا جائز نہیں ، بہتر یہ ہے گھر والے اور دیگر اعزاء و اقارب  پہلے اس کو حکمت و بصیرت سے سمجھائیں لیکن اگر وہ نہ سمجھے  تو پھر اس شخص  کا بائیکاٹ کریں ،تاکہ مزید  لوگ اس کے غلط نظریات سے  متأثر نہ ہوں  ۔

 

 قال الله تعالى: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾ [النجم: 3-۔4] 

و قال: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ [الحشر: 7] 

عن أبي رافع، وغيره رفعه قال: " لا ‌ألفين ‌أحدكم ‌متكئا ‌على ‌أريكته يأتيه أمر مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول: لا أدري، ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه.(سنن الترمذي، أبواب العلم،‌‌باب ما نهي عنه أن يقال عند حديث النبي صلى الله عليه وسلم،رقم الحديث: 2663)

عن المقدام بن معدي كرب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ألا هل عسى رجل يبلغه الحديث عني وهو متكئ ‌على ‌أريكته، فيقول: بيننا وبينكم كتاب الله، فما وجدنا فيه حلالا استحللناه. وما وجدنا فيه حراما حرمناه، وإن ما حرم رسول الله كما حرم الله.(سنن الترمذي،أبواب العلم،‌‌باب ما نهي عنه أن يقال عند حديث النبي صلى الله عليه وسلم،رقم الحديث: 2664)

قلت: فأما هجران أهل العصيان، وأهل الريب في الدين، فشرع إلى أن تزول الريبة عن حالهم، وتظهر توبتهم، قال كعب بن مالك حين تخلف عن غزوة تبوك: ونهى النبي صلى الله عليه وسلم عن كلامنا، وذكر خمسين ليلة.(شرح السنة للبغوي، ‌‌باب النهي عن هجران الإخوان،رقم الحديث:3521)


فتویٰ نمبر : 6496/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور