بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فمن یکفر بالطاغوت کی جگہ فمن یکفر باللہ پڑھنا


سوال

اگر تلاوت میں یہ غلطی ہو جائے تو نماز ہوگی یا نہیں۔﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى﴾ (البقرة: 256) اس آیت میں امام سے سہو ہوا اور انہوں نے پڑھا: فَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى کیا نماز ہوگئی؟

جواب

 اگر نماز میں قرآن کی تلاوت میں اس طرح کی غلطی ہوجائے کہ معنی میں تغیر فاحش ہوجائے یعنی ایسا معنی پیدا ہوجائے، جس کا اعتقاد کفر ہو اور نماز میں اس غلطی کی اصلاح  نہ کی جائے، تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق صحیح آیت یہ ہے:﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى﴾ (البقرة: 256)ترجمہ: "دین کے معاملےمیں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہوکرواضح ہو چکا،اس کے بعدجو شخص طاغوت کا انکار کرکے  اللہ پر ایمان لےآئےگا، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا ۔"جبکہ غلط پڑھی گئی یہ ہے: فَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى.ترجمہ: اس کے بعدجو شخص اللہ کا انکار کرے، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا۔" (نعوذ باللہ من ذلک)۔چونکہ اس غلطی سے آیت کا معنی بالکل اُلٹ ہوجاتا ہے ،لہذااس سے نماز فاسد ہوکر اس کی قضا لازم ہے۔

 

وإن ‌غير ‌المعنى تغييرا فاحشا بأن قرأ وعصى آدم ربه بنصب الميم ورفع الرب وما أشبه ذلك مما لو تعمد به يكفر. إذا قرأ خطأ فسدت صلاته...الخ. (الفتاوی الهندية،الباب الرابع في صفة الصلاة،الفصل الخامس في زلة القاري، ج:1،ص:81)

لو ‌قرأ ‌في ‌الصلاة ‌بخطأ ‌فاحش ثم رجع وقرأ صحيحا قال عندي صلاته جائزة.(الفتاوى الهندية،الباب الخامس في الإمامة،الفصل الأول في الجماعة،ج:1،ص:82)


فتویٰ نمبر : 10749/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور