بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

محض نکاح نامہ پر دستخط سے انعقاد نکاح


سوال

ہمارے علاقے کے لوگ شادی سے پہلے سرکاری دفتر میں جاتے ہیں وہاں پر قابین بنانے کے لیے جس میں لکھنا ہوتا ہے ایک دوسرے کا شوہر اور بیوی ہے اور گواہ بھی سگنیچر کرتے ہیں۔تو کیا اس طرح سگنیچر کرنے سے شادی ہو جائے گی ؟

جواب

واضح رہے کہ  شرعی طور پر نکاح کے منعقد ہونے میں ارکان نکاح ( ایجاب وقبول)اور شرائط نکاح (دوگواہوں ) کا ہونا ضروری ہے نیز ایجاب وقبول کے الفاظ زبان سے ادا کرنا اور گواہوں کااس کو سننا  ضروری ہے اس  کے علاوہ نکاح منعقد نہیں ہوتا ۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر لڑکا لڑکی محض نکاح نامے پر دستخط کریں  لیکن گواہوں کے سامنے زبانی ایجاب وقبول ابھی نہ کیا ہو تو نکاح منعقد نہ ہوگا ۔


‌فلو ‌كتب ‌تزوجتك فكتبت قبلت لم ينعقد بحر والأظهر أن يقول فقالت قبلت إلخ إذ الكتابة من الطرفين بلا قول لا تكفي.( رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب النکاح، مطلب التزوج بإرسال کتاب،ج :3،ص:12)
(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر۔ (رد المحتارعلی الدر المختار ،کتاب ا لطلاق ،مطلب التزوج بإرسال كتاب ،ج:3،ص:9 )


فتویٰ نمبر : 3799/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور