بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
غیر کی زمین میں مسجد تعمیر کرنا
سوال
اگر کوئی جگہ ایسی ہوکہ اس کا کوئی مالک معلوم نہ ہو، پھر ایک شخص کہے کہ یہ جگہ میری ہے اور لوگوں سے کہے کہ اس پر مسجد بناؤ، لوگ چندہ جمع کرکے وہاں مسجد تعمیر کرلیں، لیکن بعد میں معلوم ہو کہ وہ جگہ اس شخص کی ملکیت نہیں تھی، بلکہ اس کا اصل مالک کوئی اور ہے، تو ایسی صورت میں اس جگہ بنی ہوئی مسجد کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ مسجد شرعی شمار ہوگی یا نہیں؟ نیز ایسی مسجد میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ وقف صحیح ہونے کے لیےضروری ہے کہ جس چیز کو وقف کیا جائے وہ واقف کی ملکیت میں ہو، لہٰذا کسی دوسرے کی زمین کو مالک کی اجازت کے بغیر وقف کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی اس پر مسجد بنانا درست ہے، اگر ایسی زمین پر مسجد بنادی جائے تو جب تک زمین کا مالک اس کی اجازت دےکر وقف نہیں کرے گا، تب تک اس پر مسجد شرعی کے احکام جاری نہیں ہوں گے، اور اس میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہوگا، البتہ نماز ہوجاتی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کس جگہ کا مالک معلوم نہ ہواور کوئی دعوی کرے کہ میری ملکیت ہے اوراس پر مسجد بنادو، جب کہ مسجد بننے کے بعد یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ اس کا اصل مالک کوئی اور ہے، تو ایسی صورت میں اس پر مسجدِ شرعی کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔البتہ اس میں نماز پڑھنے سے فرض ساقط ہوجائے گا، لیکن مسجد کا ثواب نہیں ملےگا۔ نیزاصل مالک کو اختیار ہے کہ چاہے تواپنی اس زمین کو مسجد کے لیے وقف کردے یا اپنے قبضہ میں لے لے۔
أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد بشراء أو صلح، ولو أجاز المالك وقف فضولي جاز. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب قد ثبت الوقف بالضرورة، ج:4، ص:341)
فإن شرط الوقف التأبيد والأرض إذا كانت ملكا لغيره فللمالك استردادها، وأمره بنقض البناء. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، ج:4، ص:390)
وكذا تكره في أماكن كفوق كعبة وفي طريق.... وأرض مغصوبة أو للغير. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، ج:1، ص:379-381)
وفي الواقعات بنى مسجدا على سور المدينة لا ينبغي أن يصلي فيه؛ لأنه من حق العامة فلم يخلص لله تعالى كالمبنى في أرض مغصوبة .... فالصلاة فيها مكروهة تحريما في قول، وغير صحيحة له في قول آخر كما نقله في جامع الفتاوى. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، مطلب في الصلاة في الأرض المغصوبة، ج:1، ص:381)
الصلاة في أرض مغصوبة جائزة ولكن يعاقب بظلمه فما كان بينه وبين الله تعالى يثاب وما كان بينه وبين العباد يعاقب. كذا في مختار الفتاوى الصلاة جائزة في جميع ذلك لاستجماع شرائطها وأركانها وتعاد على وجه غير مكروه وهو الحكم في كل صلاة أديت مع الكراهة. كذا في الهداية فإن كانت تلك الكراهة كراهة تحريم تجب الإعادة أو تنزيه تستحب فإن الكراهة التحريمية في رتبة الواجب كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لايكره، ج:1، ص:109)