بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
زکوٰۃ کا مال مدرسے میں استعمال کرنے کا طریقہ
سوال
مدرسے کے لئے جب زکوٰۃ کا مال آجاتا ہے توہم طلبہ سے تملیک کرواکراس کو لنگرمیں یا دوسرے مد میں استعمال کرتے ہیں، آیا یہ طریقہ صحیح ہے یا نہیں، دوسرا یہ کہ زکوٰۃ کا مال ہم آبادی وغیرہ میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں، تیسرا یہ کہ چھٹیوں میں زکوٰۃ کا مال آجائے تملیک کا طریقہ مکمل نہیں ہوتا،تویہ ہم مدرسے کی آبادی یا دیگرمدوں میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ،جب کہ فارم پر ہم نے طلبہ سے اجازت لی ہو۔
جواب
واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے تملیک ضروری ہے، کسی مستحقِ زکوٰۃ کو تملیک کرائے بغیرزکوٰۃ کی ادائیگی سے ذمہ فارغ نہیں ہوگا۔مستحق کو ملکیتًا دینے کے بعد وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے استعمال کرسکتا ہے۔ نیز اگر مستحقِ زکوٰۃ خود نہ ہواوراس کا وکیل زکوٰۃ وصول کرکے اس کو کسی جگہ اس کی اجازت سے خرچ کرے تو یہ بھی جائز ہے۔
صورت مسئولہ میں زکوٰۃ کا مال طلبہ سے تملیک کرواکراس مال کو لنگر میں یا دوسرے مد میں استعمال کرنا درست ہے،لیکن زکوٰۃ کا مال تملیک سے پہلے کسی مدرسے کی آبادی وغیرہ میں استعمال کرنا جائزنہیں۔ نیزاگروکالت کےتمام تقاضوں کی رعایت کے ساتھ فارم پردستخط کرالیا جائے تومہتمم یا اس کانائب طلبہ کا وکیل متصورہوگا۔ لیکن بسا اوقات اس طرح کرنے میں تملیک محض کاغذی کاروائی تک محدود رہ جاتی ہے اور حقیقی تملیک حاصل نہیں ہوتی۔ لہذا اس کی بہتراوراحتیاط پرمبنی صورت یہ ہے کہ مہتمم چندہ دہندگان کا وکیل ہو اورزکوۃ کی رقم مستحق طلبا کو ملکیتاً دے دی جائے، پھراخراجات کی مد میں ان سے وصول کرکے ان کی ضروریات اور مدرسہ کے دیگر مفاد میں خرچ کرلی جائے۔
وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء۔ وقال ابن عابدين: ويكون له ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الزكوة ، باب المصارف ، ج: 3 ص: 293)
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره، ولو أذن فمات فإطلاق الكتاب يفيد عدم الجواز وهو الوجه نهر (و) لا إلى (ثمن ما) أي قن (يعتق) لعدم التمليك وهو الركن. وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ،باب مصرف الزکوٰۃوالعشر،ج:2،ص:345)
إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون۔(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، باب في الصارف،ج:1، ص:190)
وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه--- صرف الزكاة إلى وجوه البر من بناء المساجد، والرباطات والسقايات، و إصلاح القناطر، وتكفين الموتى ودفنهم أنه لا يجوز؛ لأنه لم يوجد التمليك أصلا. وكذلك إذا اشترى بالزكاة طعاما فأطعم الفقراء غداء وعشاء ولم يدفع عين الطعام إليهم لا يجوز لعدم التمليك.(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة ،فصل في ركن الزكاة،ج:2، ص:39)