بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
صدقے کی نیت سے الگ کئے گئے پیسوں کا استعمال کرنا
سوال
میں نے اپنے لیے گھر میں ایک ڈ بہ بنا رکھا ہے، جس میں صدقہ کی رقم رکھتی ہوں اور کچھ عرصے بعد کسی ضرورت مند کو دے دیتی ہوں، ایک دفعہ میں نے اس میں کئی ہزار روپے ڈالے تھے لیکن مجھے پھر پیسوں کی ضرورت پڑی،تو میں نے اسی ڈبے سے پیسے نکال دیئے،اب میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں اس میں اسی مقدار میں پیسے واپس رکھوں تو کیا مجھ پرکوئی گناہ ہے یانہیں اور کیا مجھ پراتنی ہی رقم دوبارہ رکھنالازمی ہے یا نہیں؟
جواب
جاننا چاہیے کہ صدقہ کی رقم الگ کرنے سے اس رقم کا صدقہ کرنا لازم نہیں ہوتا بلکہ وہ رقم صدقہ کرنے والے کی ملک میں رہتی ہے کیونکہ صدقہ تب تام ہوتا ہے جب رقم فقراء کو حوالہ کی جائے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق صدقہ کی نیت سے ڈبے میں رکھے گئے پیسوں کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے اور دوبارہ اتنی مقدار میں رقم صدقہ کرنا بھی لازم نہیں کیونکہ محض دل میں صدقہ کی نیت کرنے سے صدقہ کرنا لازم نہیں ہوجاتا۔
ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء۔۔۔ (قوله: ولا يخرج عن العهدة بالعزل) فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة ولو مات كانت ميراثا عنه، بخلاف ما إذا ضاعت في يد الساعي لأن يده كيد الفقراء بحر عن المحيط.(رد المحتار على الدر المختار،ج:2،ص:270)