بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قرض پیسے دینے کی بجائے سامان خرید کردینا اور مستقرض کا اس سامان کو آگے بیچنا


سوال

ہمارے ہاں فروخت کی ایک صورت رائج ہے کہ جب کسی شخص کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ صاحبِ مال کے پاس جا کر قرض کا مطالبہ کرتا ہے۔ مقرض نفع کے حصول کے لیے درج ذیل طریقہ اختیار کرتا ہےمقرض اور مستقرض دونوں کسی بڑے اسٹور پر جاتے ہیں، جہاں مقرض مطلوبہ قرض کے مطابق سامان(مثلاً آٹا، چینی یا دیگر اشیاء) خریدتا ہے۔ دکاندار آرڈر کے مطابق سامان کی رسید بنا کر وہ مشتری(یعنی مقرض) کے حوالے کر دیتا ہے۔ بعد ازاں مقرض اور مستقرض کے درمیان ایک عقد ہوتا ہے، جس میں مقرض، مستقرض سے کہتا ہے: "یہ سامان میری ملکیت میں ہے، اگر تم اسے نقد لو تو قیمت پانچ لاکھ روپے ہے، اور اگر ایک سال کی مدت پر لو تو قیمت سات یا آٹھ لاکھ روپے ہوگی۔ تمہیں اختیار ہے، چاہو تو لے لو، ورنہ چھوڑ دو، کوئی جبر واکراہ نہیں۔ "جب مستقرض مذکورہ سودا منظور کر لیتا ہے تو مقرض(یعنی پہلا خریدار) سامان کی رسید مستقرض(یعنی دوسرے خریدار) کے حوالے کر دیتا ہے۔ پھر مشتری ثانی(مستقرض) اس سامان کو دکاندار کے پاس ہی چھوڑ کر اسے وکیل بالبیع بنا دیتا ہے کہ آپ یہ سامان نقد پانچ لاکھ روپے میں فروخت کر دیں۔ چند دنوں بعد دکاندار سامان فروخت کرکے نقدی مستقرض کے حوالے کر دیتا ہے۔ اب درج ذیل امور قابلِ وضاحت ہیں: 1۔ کیا بیع وشراء کی یہ صورت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ 2۔ اگر جائز ہے تو یہ کس قسم کی بیع کے زمرے میں داخل ہے؟ 3۔ اگر ناجائز ہے تو کس علت کی بنا پر ناجائز ہے، اور اس کے متبادل کے طور پر شریعت کے مطابق کون سا جائز طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نقد رقم حاصل کرنے کے ارادہ سے کسی چیز کومساومہ یا مرابحہ کی بنیاد پر خرید کر فروخت کنندہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو نقد رقم کے عوض فروخت کرنا فقہاء کی اصطلاح میں "تورُّق" کہلاتا ہے، تورُّق کا معاملہ اس وقت جائز ہوگا جب خریدار خریدا گیا سامان فروخت کنندہ کے علاوہ کسی تیسرے فریق کو فروخت کرے، تاکہ بیع عینہ سے بچا جا سکے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ضروری ہے کہ کسی شرط، باہمی مفاہمت یا عرف کی بنا پر وہ چیز دوبارہ فروخت کنندہ کے پاس لوٹ نہ آئے۔ اسی طرح خریدار کے لیے سامان پر حقیقتاً یا حکماً قبضہ کرنا بھی لازم ہے۔

صورتِ مسئولہ میں مقرض کا دکاندار سے سامان خرید کرمستقرض پر ادھار نفع کے ساتھ فروخت کردینا، اور پھر مستقرض کا دکاندار کو اسی سامان کا وکیل بالبیع بنا کر اس کے ذریعے نقد پیسوں پر فروخت کرنا "تورُّق" ہے، اور یہ معاملہ ضرورت کے وقت جائز ہے، بشرطیکہ اس مقرض اور دکاندار کا آپس میں باہمی سمجھوتہ نہ ہو یااس طرح کوئی شرط نہ لگائی گئی ہوجس سے یہ سامان اس مقرض کو واپس لوٹ آئے۔ تاہم اس کو عادت بنانا ٹھیک نہیں، کیونکہ اس میں آدمی کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

 

‌ثم ‌قال ‌في ‌الفتح ‌ما ‌حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الكفالة، مطلب بيع العينة، ج:5، ص:326)

‌وإلا ‌فلا ‌كراهة ‌إلا ‌خلاف الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا فإن الأجل قابله قسط من الثمن والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب. (فتح القدير، كتاب الكفالة، ج:7، ص:213)


فتویٰ نمبر : 3962/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور