بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ہسپتال میں مقرر امام کا ڈاکٹر کا انتظار کرنا اور امامت کے وظیفے کا شرعی حکم


سوال

مجھے ایک ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے نماز پڑھانے کے لیے متعین کیا ہےاور یہ کہا ہے کہ آ پ    کی جو امامت ہے وہ صرف میرے لیے ہےحالانکہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی صفوں کا انتظام کیاگیاہے جو ہسپتال میں مریض یاہسپتال عملہ وغیرہ  ہوتے ہیں۔تو اس صورت حال میں مجھے اس ڈاکٹر کاانتظار کرنا کیسا ہے؟جبکہ دوسرے لوگ موجود ہوں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ نماز پڑھانے کا جو ہدیہ یعنی تنخواہ لی جاتی ہے یہ لیناکیا جائز ہے کیونکہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بھائی وقت دے کر ہم وقت کے پیسے لے رہے ہیں لیکن وہ کچھ کہتے ہیں کہ آپ دیکھیں کہ وقت کس چیز کے لیے دیا جا رہا ہے علماء اس میں رہنمائی ‎فرمائیں۔ ‎کیا صحابہ یا نبی علیہ السلام کے دور میں ایسا کیا گیا تھا کہ کسی کو متعین کیا گیا ہو پڑھانے کے لیے یا نماز کے لیے تو اس کے لیے وظیفہ بھی مقرر کیا گیا ہو کیااس کی کوئی مثال موجود ہے؟ ‎کیا آج کے دور میں بغیر تنخواہ کے کوئی نماز وغیرہ یا کوئی اور کام کر سکتا ہے؟

جواب

اگر ہسپتال نے امام کو سب نمازیوں کی امامت کے لیے مقرر کیا ہو اور تنخواہ بھی ہسپتال دیتا ہو تو ایسی صورت میں کسی ایک ڈاکٹر کی وجہ سے جماعت میں بلا وجہ تاخیر کرنا درست نہیں، کیونکہ امام کی ذمہ داری عام نمازیوں کے ساتھ ہوتی ہے؛ لہٰذا جب نماز کا وقت داخل ہو جائے اور لوگ موجود ہوں تو نماز وقت پر شروع کر دی جائے۔ البتہ اگر کوئی ڈاکٹر اپنی مصروفیت کے باعث اپنے لیے علیحدہ امام خود مقرر کرے، اس کا معاوضہ بھی وہ خود دے اور اس کی جماعت بھی الگ جگہ ہو تو اس صورت میں امام اس کا انتظار کر سکتا ہے۔ رہا مسئلہ امامت کے وظیفے کا، تو متاخرین فقہائے احناف نے ضرورت کی بنا پر امام، مؤذن اور قرآن پڑھانے والے کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے، کیونکہ امام کا کام صرف نماز پڑھا دینا نہیں بلکہ پانچ وقت پابندی سے حاضری دینا، وقت کا التزام، مقامِ عبادت کی دیکھ بھال، دینی خدمات اور جماعت کے نظام کو قائم رکھنا ہوتاہےاور انہی ذمہ داریوں میں اپنا  وقت لگانے کے بدلے وظیفہ دیا جاتا ہے،یہ نسبت نماز کی عبادت کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے لیے درکار وقت، محنت اور خدمت کے ساتھ ہوتی ہے، جو شرعاً درست ہے۔ اسی نوعیت کے وظائف خلفائے راشدین کے دور میں بھی موجود تھےحضرت عمرؓ نے قرآن سکھانے والوں کو وظیفہ دینے کا حکم دیا اور حضرت علیؓ قرآن پڑھنے والوں کو سالانہ وظیفہ دیتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی خدمت پر وظیفہ لینا جائز ہے، اور اگر کوئی بغیر تنخواہ کے امامت کرنا چاہے تو وہ بھی جائز اور باعثِ ثواب ہے۔

 

أن عمر بن الخطاب كتب إلى بعض عماله: أن ‌أعط ‌الناس ‌على ‌تعلم ‌القرآن، فكتب إليه: إنك كتبت إلي: أن ‌أعط ‌الناس ‌على ‌تعلم ‌القرآن.(الأموال لابي عبيد،ص:333،رقم:643)

عن علي قال: "من ولد في الإسلام فقرأ القرآن فله في بيت المال في كل سنة مائتا دينار، إن أخذها في الدنيا، وإلا أخذها في الآخرة". "هب". عن سالم بن أبي الجعد: "أن عليا فرض لمن قرأ القرآن ألفين ألفين".(كنز العمال،‌‌كتاب الأذكار،‌‌ فصل في حقوق القرآن،ج:2،ص:327،رقم :4145)

(قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضا في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الإجارة، ‌‌باب الإجارة الفاسدة،ج:6،ص:55)

رئيس المحلة ‌لا ‌ينتظر ‌ما ‌لم ‌يكن ‌شريرا والوقت متسع.( ردالمحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الأذان،ج:1، ص:400)


دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور