بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
مسجد کا پانی ذاتی استعمال میں لانا
سوال
میرا گھر مسجد کے قریب ہے اور مسجد میں ایک صاحب نے کنواں کھودا ہے۔کنواں کھودنے کے دوران میں نے اپنے گھر کے لیے پانی لانے کا مطالبہ کیا تو اس صاحب نے بخوشی کہا کہ یہ ویسے بھی وقف ہے آپ کو لانے کی اجازت ہے۔مگر کنویں میں جو سامان (پانی نکالنے کے آلات) ہیں وہ اُس شخص کے ہیں جس نے یہ مسجد بنائی ہے اور وہ رقم ایک عربی نے ایصال ثواب کے لیے بھیجی تھی ۔اب عرض یہ ہے کہ ذاتی استعمال کے لیے یہ پانی لے جاناجائز ہے یا نہیں؟نوٹ:پانی نکالنے کے لیےبجلی کا خرچ میرا اپنا ہی ہے۔
جواب
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد کے لیے وقف شدہ پانی صرف مسجد کی ضروریات تک محدود رہے گا اور مسجد سے گھروں میں لے جاکر ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ،البتہ اگر واقف نے پانی وقف کرتے وقت اس کی اجازت دی ہو تو پھرکوئی مضائقہ نہیں ،لیکن پھر بھی مسجد کی ضروریات کو مقدم رکھا جائے گا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر پانی کا انتظام کرنے والے واقف یا مسجد کمیٹی کی جانب سے پانی صرف مسجد کے لیے ہو اور اس کو گھر لے جانے کی اجازت نہ ہوتو اس صورت میں پانی کو ذاتی استعمال کے لیے مسجد سے گھر لے جانا درست نہیں۔البتہ اگر واقف یا مسجد کی کمیٹی کی جانب سے اس کی اجازت ہو تو ایسی صورت میں پانی کو ذاتی استعمال کے لیے مسجد سے گھر لاکر اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا جائز ہے،تاہم مسجد کی ضرورت کو بہر حال مقدم رکھا جائے گا۔
فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:6،ص:343)
أرض وقف على مسجد صارت بحال لا تزرع فجعلها رجل حوضا للعامة لا يجوز للمسلمين انتفاع بماء ذلك الحوض، كذا في القنية. (الفتاوى الهندية،كتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض،ج:2،ص:464)
ويكره رفع الجرة من السقاية وحملها إلى منزله؛لأنه وضع للشرب لا للحمل،كذا في محيط السرخسي.وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلافلا.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الحادي عشر في الكراهة في الأكل وما يتصل به،ج:5، ص:341)