بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
بارش كے وقت دعا كے دو الفاظ
سوال
بارش کے وقت کی مشہور دعا ’اللهم صيبا نافعا‘ ہے جو صحيح البخاري 1032 میں بروایتِ عائشہ رضی اللہ عنہا ملتی ہے، لیکن اس روایت کے بہت سے طرق میں ’ اللهم صيبا هنيئا ‘ ہے، سوال یہ ہے کہ کون سا پڑھنا بہتر ہے؟ اس طالبِ علم کو جو نظر آیا وہ بھی پیشِ خدمت ہے۔ (۱)راویٔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے تین تلامذہ ہیں: شریح بن ھانئ، قاسم بن محمد اور عروہ، پہلے کے طریق میں ’نافعا‘ ہے اور دوسرے دو کے طرق میں (علی الاصح) ’ھنیئا‘ ملتا ہے۔ (۲) تینوں ثقہ ہیں، لیکن قاسم اور عروہ اوثق الناس فی عائشہ ہیں کما فی سير أعلام النبلاء ط الرسالة (5/ 56): عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَعْلَمُ النَّاسِ بِحَدِيْثِ عَائِشَةَ ثَلاَثَةٌ: القَاسِمُ، وَعُرْوَةُ، وَعَمْرَة‘۔ بلکہ عبید اللہ بن عمر عن قاسم عن عائشہ بقول ابن معین (5/ 56): تَرْجَمَةٌ مُشَبَّكَةٌ بِالذَّهَبِ ہے۔ (۳) نیز قاسم بن محمد کے بارے میں آتا ہے کہ وہ روایت باللفظ کا اہتمام کرتے تھے کما فی السير: قال ابن عون: كان القاسم وابن سيرين ورجاء بن حيوة يحدثون بالحديث على حروفه، وكان الحسن وإبراهيم والشعبي يحدثون بالمعاني۔ (۴) ایسا لگتا ہے کہ اصل لفظِ نبوی ’ھنیئا‘ ہے، اور ’نافعا‘ روایت بالمعنی ہے۔ (۵) ابن حبان نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ ان کی صحيح (3/ 274) میں یکے بعد دیگرے دو ابواب آتے ہیں: ذكر ما يقول المرء إذا تفضل الله جل وعلا على الناس بالمطر ورآه 993 - … عن القاسم بن محمد، عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأى المطر، قال: «اللهم صيبا هنيا» ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم: «هنيا» أراد به: نافعا 994 - … المقدام بن شريح، عن أبيه، عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأى الغيث، قال: «اللهم صيبا أو سيبا نافعا» (۶) ’اللھم صیبا نافعا‘ بھی پڑھنا بالکل ٹھیک ہے، لیکن نبوی دعاؤں میں عین نبوی الفاظ استعمال کرنا اولی ہے ، ان میں زیادہ برکت ہے، اور خود نبی ﷺ نے اس کی تاکید کی، چنانچہ سنن الترمذي 3394 میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ انہیں سونے سے پہلے کی ایک دعاء ’اللهم أسلمت نفسي إلیك إلخ‘ سکھا رہے تھے، جب براء رضی اللہ عنہ نے ’بنبیك‘ کی جگہ پر ’برسولك‘ پڑھا تو نبی ﷺ نے تنبیہ فرمائی۔
جواب
واضح رہے کہ رسول اللہﷺکی جو بھی حدیث ہمارے پاس صحیح سند سے پہنچے،وہ لفظ اور معنی کے اعتبار سےلائق اتباع اور قابل بیان ہوتی ہے، نیز کبھی کبھار حضورﷺ سے مختلف مواقع پر ایک ہی واقعے کے متعلق مختلف الفاظ منقول ہوتے ہیں،تو اگر ان مختلف الفاظ سے منقول احادیث سند کے اعتبار سے صحیح ہوں تو یہ تمام الفاظ حضورﷺ ہی کے الفاظ متصور ہوں گے۔
صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ بارش کے وقت دعا كے دونوں طرح الفاظ: "اللهم صيبا نافعا" اور"اللهم صيبا هنيئا" ،صحیح احادیث مبارکہ میں موجودہیں ،تو ممکن ہےکہ حضرت عائشہ ﷺ نے دونوں الفاظ حضورﷺ کے زبان اطہر سے سنے ہوں ،پھر بعض شاگردوں جیسےشریح بن ہانی رحمہ اللہ وغیرہ کو "نافعا" کے لفظ والی حدیث سنائی ہواوربعض دوسرے شاگرد جیسےحضرت قاسم بن محمد ؒ اورحضرت عروہؒ وغیرہ کو "هنيئا" کے لفظ والی حدیث سنائی ہو، لہذا دونوں طرح کے الفاظ پڑھنا جائز ہے، بلکہ افضل یہی ہے کہ بارش کے وقت کبھی ایک حدیث کے الفاظ (اللهم صيبا نافعا)اورکبھی دوسری حدیث کے الفاظ (اللهم صيبا هنيئا)پڑھے جائیں،تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہوتا رہے،کیونکہ إعمال(دونوں پر عمل کرنا) إہمال(ایک کو مہمل چھوڑنے) سے،اورتطبیق ترجیح سے بہتر ہے۔
عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى المطر، قال: " اللهم صيبا نافعا ". (مسند أحمد، مسند النساء، مسند الصديقة عائشة بنت الصديق رضي الله عنها، رقم الحديث: 24144، ج: 40، ص: 172)
عن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «كان إذا رأى المطر قال: صيبا نافعا.» تابعه القاسم بن يحيى، عن عبيد الله، ورواه الأوزاعي وعقيل، عن نافع. (صحيح البخاري، كتاب الاستسقاء، باب ما يقال إذا أمطرت، رقم الحديث: 1032، ج: 2، ص: 32)
فأما رواية الأوزاعي فأخرجها النسائي في عمل يوم وليلة عن محمود بن خالد عن الوليد بن مسلم عن الأوزاعي بهذا ولفظه هنيئا بدل نافعا. (فتح الباري لابن حجر، كتاب الاستسقاء، باب ما يقال إذا امطرت، ج: 2، ص: 519 )
عن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى المطر، قال: " اللهم صيبا هنيئا ". (مسند أحمد، مسند النساء، مسند الصديقة عائشة بنت الصديق رضي الله عنها، رقم الحديث: 24877، ج: 41، ص: 370)
عن المقدام ابن شريح، عن أبيه عن عائشة: أن النبي- صلى الله عليه وسلم -كان إذا رأى ناشئا في أفق السماء ترك العمل، وإن كان في صلاة، ثم يقول: "اللهم إني أعوذ بك من شرها"، فإن مطر قال: "اللهم صيبا هنيئا". (سنن أبي داود، أبواب النوم، باب ما يقول إذا هاجت الريح، رقم الحديث: 5099، ج: 7، ج: 428)
ثم كل ما صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا يحل لأحد أن يرغب عن شيء منه، قال الله تعالى آمرا لرسوله صلى الله عليه وسلم أن يقول: {قل إنني هداني ربي إلى صراط مستقيم دينا قيما ملة إبراهيم حنيفا وما كان من المشركين} [الأنعام: 161]. (المحلى بالآثار، كتاب الصلاة، الأعمال المستحبة في الصلاة، صلاة الخوف، ج: 3، ص: 233)
جامع الدعوات: اعلم أن غرضنا بهذا الكتاب ذكر دعوات مهمة مستحبة في جميع الأوقات، غير مختصة بوقت أو حال مخصوص... فأول ذلك الدعوات المذكورات في القرآن، التي أخبر الله سبحانه وتعالى بها عن الأنبياء -صلوات الله وسلامه عليهم، وعن الأخيار، وهي كثيرة معروفة؛ ومن ذلك ما صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه فعله أو علمه غيره؛ وهذا القسم كثير جد. (الأذكار للنووي، كتاب جامع الدعوات، باب جامع الدعوات، ص: 612)
وهذه الأدلة المذكورة في روايتي مالك كلها صحيحة، وإن تعارض بعضها، فالأولى أن نجمع بينها، ولا نهملها، لأن الإعمال أولى من الإهمال، ولا يُرجح بين حديثين، ولا يُبحث عن الناسخ والمنسوخ منهما ما دام الجمع ممكنًا. (بغية المقتصد شرح بداية المجتهد، كتاب الصلاة، الكلام على الصلاة الوسطى، ج: 3، ص: 1052)
وأما قول من قال الإعمال أولى من الإهمال فإن أراد الإعمال ولو مع رجحان غيره عليه فممنوع وإن أراد الإعمال مع تساوي الحديثين فمسلم.(توجيه النظر إلى أصول الأثر، الفائدة الثالثة، ج: 1، ص: 541)