بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تین طلاق کے بارے میں حدیث ابن عباسؓ اور حدیث رکانہ ؓ کی تحقیق


سوال

تین طلاق کے بارے میں غیر مقلدین (اہل حدیث) جن دو احادیث سے استدلال کرتے ہیں، ان میں ایک صحیح مسلم کی روایت ہے جس میں ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ "عہدِ نبوی، عہدِ صدیقی اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دو سالوں تک تین طلاق کو ایک سمجھا جاتا تھا"، اور دوسری حدیث مسند احمد میں حضرت رکانہؓ کے متعلق ہے کہ انہوں نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک شمار کیا۔" کیا ان دونوں روایات سے استدلال درست ہے؟اگر درست نہیں تو ان سے ہمارے علما کونسے جواب پیش کرتے ہیں؟نیزکیا ان روایات کی بنیاد پر پوری امت کے اجماعی موقف (کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں چاہے اکٹھی ہو یا علیحدہ علیحدہ،تین ہی واقع ہوتی ہیں) کو ترک کیا جا سکتا ہے؟

جواب

تین طلاق کو ایک سمجھنے والے  جن روایتوں سے استدلال کرتے ہیں ان میں سے ایک صحیح مسلم کی روایت ہے اور دوسری مسند احمد بن حنبل کی روایت ہے۔ان میں سے ہر ایک کی ذیل میں تفصیل ذکر کی جاتی ہے۔

پہلی دلیل روایتِ مسلم:

 عن طاؤس عن ابن عباس،قال:كان ‌الطلاق ‌على ‌عهد ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم ‌وأبي ‌بكر وسنتين من خلافة عمر،طلاق الثلاث واحدة.فقال عمر بن الخطاب:إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة.فلو أمضيناه عليهم!فأمضاه عليهم. (صحيح مسلم،كتاب الطلاق،باب الطلاق الثلاث،رقم الحديث:1472)

ترجمہ : طاؤس حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاق کو ایک شمار کیا جاتاتھا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: جس کام میں لوگوں کیلئے مہلت تھی اس میں لوگوں نے جلدی کرنا شروع کردی ہے پس اگر ہم تین طلاق نافذ کردیں تو بہتر ہوگا پھر آپ نے تین طلاق کے نافذ ہونے کا حکم دے دیا۔

اس حدیث سے تین طلاقوں کے ایک ہونے پر استدلال کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر درست نہیں:

 (1) طاؤس کویہ روایت بیان کرنے میں مغالطہ اور وہم ہوا ہے ۔ امام ماردینیؒ نے صاحب استذکار کے حوالے سے فرمایا: ‌إن ‌هذه ‌الرواية ‌وهم ‌وغلط،لم يعرج عليها أحد من العلماء. (الجوهر النقي،باب من جعل الثلاث واحدة،ج:7،ص:337)

ترجمہ: یہ روایت وہم اور غلط ہے،علماء میں سے کسی نے اسکو قبول نہیں کیا۔

(2) امام بخاریؒ کے نزدیک یہ حدیث صحیح نہیں تھی اس لیے آپ نے دانستہ طور پر اس حدیث کو اپنی صحیح میں نقل نہیں فرمایا۔ چنانچہ امام بیہقیؒ فرماتے ہیں: وهذا الحديث أحد ما اختلف فيه البخاري ومسلم فأخرجه مسلم،وتركه البخاري وأظنه إنما تركه لمخالفته سائر الروايات عن ابن عباس. (السنن الكبرى للبيهقي،كتاب الخلع والطلاق،باب من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك،رقم الحديث:14974)

ترجمہ : یہ روایت ان میں سے ایک ہے جس میں امام بخاری اور امام مسلم کا باہم اختلاف ہے ، امام مسلم نے اس حدیث کو اپنی کتاب میں درج کیا لیکن امام بخاری(جو کہ امام مسلم کے استاد  ہیں) نے اس روایت کو اپنی صحیح میں درج نہ کیا ؛کیونکہ یہ روایت (تین طلاقوں کے بارے میں)حضر ت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی دیگر تمام روایات کے مخالف ہے۔

(3) یہ روایت خود حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے فتوی کے خلاف ہے ۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ایک روایت نقل کریں اور فتوی اسکے خلاف دیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا فتوی مؤطا امام مالک کے حوالے سے منقول ہے کہ: أن رجلا قال لعبد الله بن عباس ‌إني ‌طلقت ‌امرأتي ‌مائة ‌تطليقة فماذا ترى علي؟ فقال له ابن عباس:طلقت منك لثلاث، وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله هزوا.(موطأ امام مالك،كتاب الطلاق،باب ماجاء في البتة،ج:2،ص:550،رقم الحديث:1)

ترجمہ : ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے کہا کہ :میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں، تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : تیری عورت کو تیری طرف سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور باقی ستانوے کی وجہ سے تونے اللہ تعالی کی آیات کو مذاق بنا لیا۔

 ابن حجر عسقلانیؒ نے فتح الباری میں لکھاہے: والثاني معارضته بفتوى بن عباس بوقوع الثلاث،فلا يظن بابن عباس أنه كان عنده هذاالحكم عن النبي صلى الله عليه وسلم ثم يفتي بخلافه...أنه مذهب ‌شاذ فلا يعمل به. (فتح الباري،كتاب الطلاق،قوله باب من جوز الطلاق الثلاث،ج:9،ص:362،363)

ترجمہ : طاؤس کی روایت حضرت ابن عباس کے تین طلاق کے وقوع والے فتوے کے خلاف ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے یہ متصور نہیں کہ وہ کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ایک چیز روایت کریں اور فتوی اس کے خلاف دیں۔۔۔اسی طرح یہ مذہب شاذ بھی ہےسو اس پر عمل نہیں کیا جائے  گا ۔

 (4) اس روایت کو اگر درست مانا جائے تو اس سے یہ لازم آئیگا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بر خلاف ایک حکم شریعت میں اپنی طرف سے تبدیلی  کردی اور تمام صحابہ کرام نے اس فعل میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا ساتھ دیا اور کسی ایک نے بھی مخالفت نہیں کی،تو جو افراد حکم شریعت کی مخالفت جان بوجھ کر کریں اور اسکی تائید وحمایت کریں ،تو ان کو عادل کیسے کہا جا سکتا ہے ؟لہذا ضروری ہے کہ تمام صحابہ میں نقص ماننے کی بجائے اس روایت کوحضرت طاؤس کے وہم پر محمول کیا جائے ۔

(5) طاؤس کو اس روایت میں غیر مدخولہ کی طلاق کے ساتھ مغالطہ لگا ،تین طلاق کا ایک ہونا غیر مدخولہ عورت کا حکم ہے طاؤس نے یہ حکم مدخولہ عورت کا بھی سمجھ لیا۔ جیسا کہ ابن ابی شیبہ کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے : عن ليث عن طاوس وعطاء ‌أنهما ‌قالا:إذا ‌طلق ‌الرجل ‌امرأته ‌ثلاثًا قبل أن يدخل بها فهي واحدة. (مصنف ابن أبي شيبة،كتاب الطلاق،ما قالوا:إذا طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها فهي واحدة،رقم الحديث:18835)

ترجمہ: لیث روایت کرتے ہیں طاؤس اور عطاء سے کہ انہوں نے کہا کہ جب مرد نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی دخول کرنے سے قبل تو اسے ایک طلاق واقع ہوگی۔

(6) بالفرض اگر طاؤس کی روایت درست ہو تو اس کا صحیح محمل وہی ہو سکتا ہے جو ابن ہمامؒ نے فرمایاہے: ‌فتأويله ‌أن ‌قول ‌الرجل ‌أنت ‌طالق أنت طالق أنت طالق كان واحدة في الزمن الأول لقصدهم التأكيد في ذلك الزمان،ثم صاروا يقصدون التجديد فألزمهم عمر رضي الله عنه ذلك لعلمه بقصدهم. (فتح القدير،كتاب الطلاق،باب طلاق السنة،ج:3،ص:471)

ترجمہ : اس (طاؤس کی )روایت کی تاویل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں"أنت طالق،أنت طالق،أنت طالق"میں لوگ دوسرے اور تیسرے الفاظ سے( نئی طلاق کی بجائے پچھلی طلاق کی) تاکید مراد لیتے تھے ، پھر وہ دوسرے اور تیسرے الفاظ طلاق سے (تاکید کی بجائے ) نئی طلاق مراد لینے لگے،تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان كی نيت اور ارادے کو جاننے کی وجہ سےان پرتین طلاقوں کا واقع ہونا لازم قرار دیا ۔

گویا روایت میں اس بات کا ذکر ہے کہ جب دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید مراد لینے کا رواج ہو تو دوسری اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی اور جب دوسری اور تیسری طلاق سے مستقل  طلاق دینے کا رواج ہو، تو ان الفاظوں سے مزید طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔

دوسری دلیل حدیثِ رکانہ :

 عن ابن عباس،قال:طلق ركانة بن عبد يزيد أخو بني المطلب امرأته ثلاثا في مجلس واحد،فحزن عليها حزنا شديدا،قال:فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم:"كيف طلقتها؟"قال:طلقتها ثلاثا.قال:فقال:"في مجلس واحد؟"قال:نعم. قال:"فإنما تلك واحدة فأرجعها إن شئت". (مسند أحمد،مسند ابن عباس،رقم الحديث:2387)

ترجمہ : ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:رکانہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں تو وہ سخت پریشان ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے پوچھا کہ تو نے کیسے طلاق دی تھی ، کہا تین ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : ایک مجلس میں؟ اس نے کہا ہاں، تو آ پ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا: ایک طلاق ہوئی ہے پس اگر چاہے تو رجوع کرلے۔

حدیث رکانہ سے استدلال چھ وجوہ سے درست نہیں:

(1) یہ حدیث ضعیف ہے اور ضعیف حدیث سے استدلال درست نہیں ہے ۔ امام ابن جوزی ؒفرماتے ہیں: هذا حديث لا يصح،‌ابن ‌إسحاق ‌مجروح ‌وداود ‌أشد ‌منه ضعفا. قال ابن حبان:حدّث عن الثّقات بما لا يشبه حديث الأثبات فيجب مجانبة روايته والحديث الأول أقرب حالا والظاهر أنه من غلط الرواة. (العلل المتناهية في الأحاديث الواهية،كتاب النكاح،ج:2،ص:151،رقم الحديث:1052)

ترجمہ: یہ حدیث صحیح نہیں ہے،ابن اسحاق مجروح ہے اور داود اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے،اور ابن حبان نے کہا ہے کہ:وہ(داؤد) ثقہ راویوں سے ایسی حدیثیں بیان کرتا ہے جو ثابت احادیث کے مشابہ نہیں ہوتیں،لہذا ان کی روایات سے بچنا ضروری ہے ،اور پہلی حدیث زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے  اور ظاہر ہے کہ یہ روایت راویوں کی غلطی ہے ۔

 (2)یہ حدیث منکر ہے۔ حدیث رکانہ ضعیف ہونے کے ساتھ منکربھی ہے جیساکہ کمال الدین ابن ہمام ؒ نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے ۔ فتح القدیر میں فرماتے ہیں: وأماحديث ركانة فمنكر. (فتح القدير كتاب الطلاق،باب طلاق السنة،ج:3،ص:471)

ترجمہ: اورجہاں تک رکانہ کی حدیث ہے تو وہ منکرہے ۔

(3) حدیث رکانہ معلل اور مضطرب ہے ۔امام بخاریؒ نے اس حدیث کو مضطرب ہونے کی وجہ سےاپنی صحیح بخاری میں نقل نہیں فرمایا، اگر یہ حدیث صحت کے درجے کو پہنچتی تو وہ اس کو درج فرماتے ، چنانچہ امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: وسألت محمدا عن هذا الحديث فقال: فيه اضطراب. (سنن الترمذي،أبواب الطلاق،باب ما جاء في الرجل يطلق امرأته البتة،ج:2،ص:466)

ترجمہ:میں نے محمد بن اسماعیل بخاریؒ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں فرمایا اس حدیث میں اضطراب ہے ۔

اس طرح علامہ ابن حجرعسقلانیؒ نے فرمایا:‌وأعله ‌البخاري ‌بالاضطراب.وقال ابن عبد البر في التمهيد ضعفوه.وفي الباب عن ابن عباس رواه أحمد والحاكم،وهو معلول أيضا. (التلخيص الحبير،كتاب الطلاق،ج:3،ص:458،رقم الحديث:1603)

ترجمہ: امام بخاری نے حدیث رکانہ کو اضطراب کی وجہ سے معلل قرار دیا ہے۔ابن عبدالبر نے "التمہید" میں فرمایا ہے کہ محدثین نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔اور اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت بھی ہےجسے امام احمد اور امام حاکم نے روایت کیا ہے لیکن وہ بھی معلول ہے۔

(4) حدیث رکانہ کو امام احمد کے علاوہ امام ابو داؤد نے سنن ابی داؤد میں (أول كتاب الطلاق،باب في البتة،رقم الحديث:2206) کے تحت ، امام ترمذی نے سنن ترمذی میں(أبواب الطلاق واللعان عن رسول الله، باب ما جاء في الرجل يطلق امرأته البتة،رقم الحديث:1177) کے تحت ، اور امام ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ میں (أبواب الطلاق،باب طلاق البتة،رقم الحديث:2051) کے تحت نقل فرمایا ہے تینوں جگہ حدیث میں" تین طلاق"کی بجائے "طلاق البتہ" کا ذکر ہے۔ مسند احمد کی سند کے مقابلے میں سنن ابی داؤد کی سند بہت قوی ہے۔

امام ابو داود نے فرمایا: قال أبو داود:وهذا ‌أصح ‌من ‌حديث ‌ابن ‌جريج أن ركانة طلق امرأته ثلاثا. (سنن أبي داؤد،كتاب الطلاق،باب في البتة،رقم الحديث:2208)

 ترجمہ : امام ابو داود نے فرمایا: یہ حدیث ابن جریج کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے کہ جس میں یہ ذکر ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں۔

ایک طلاق والی صحیح حدیث مبارکہ کی امام ابو داود نے دو سندیں بیان کی (۱) نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ۔ (۲) یزید بن رکانہ، دونوں حدیثیں بمع سند درج ذیل ہیں: حدثنا ابن السرح،وإبراهيم بن خالد الكلبي أبو ثور،في آخرين قالوا:حدثنا محمد بن إدريس الشافعي،حدثني عمي محمد بن علي بن شافع،عن عبد الله بن علي بن السائب،عن نافع بن عجير بن عبد يزيد بن ركانة،أن ركانة بن عبد يزيد طلق امرأته سهيمة البتة،فأخبر النبي صلى الله عليه وسلم بذلك،وقال:والله ما أردت إلا واحدة،فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:والله ما أردت إلا واحدة؟،فقال ركانة:والله ما أردت إلا واحدة،فردها إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم،فطلقها الثانية في زمان عمر،والثالثة في زمان عثمان. (سنن أبي داؤد،كتاب الطلاق،باب في البتة،رقم الحديث:2206)

ترجمہ: رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سھیمہ کو طلاق البتہ دی، اور اس معاملے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں پیش کیا اور کہا: اللہ کی قسم میں نے طلاق البتہ سے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : اللہ کی قسم تونے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا؟ رکانہ نے عرض کی: اللہ کی قسم میں نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا، تورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ( اسکے ارادے کی تصدیق کرتے ہوئے ) انکا نکاح برقرار رکھا، رکانہ نے اپنی بیوی کو دوسری طلاق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں دی، اور تیسری طلاق حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں دی۔

دوسری سند اس طرح ہے: حدثنا سليمان بن داود العتكي،حدثنا جرير بن حازم،عن الزبير بن سعيد،عن عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة،عن أبيه،عن جده:أنه طلق امرأته البتة،فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:ما أردت،قال: واحدة،قال:آلله؟،قال:آلله،قال:هو على ما أردت. (سنن أبي داؤد،كتاب الطلاق،باب في البتة،رقم الحديث:2208)

ترجمہ: عبد اللہ بن علی بن یزید بن رکانہ اپنے والد یزید بن رکانہ سے اور وہ انکے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی تو رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سارا معاملہ عرض کیا، رسول اللہ نے پوچھا تم نے اس لفظ سے کیا ارادہ کیا؟ عرض کیا ایک طلاق، رسول اللہ نے پوچھا کیا اللہ کے نام کا حلف اٹھا کر کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم، رسول اللہ نے فرمایا وہی طلاق واقع ہوئی جس کا تم نے ارادہ کیا(یعنی ایک طلاق)۔

(5) مذکورہ بالا "البتة " والی حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ:"أنت طالق البتة " میں لفظ "البتة" کا معنی کاٹنا ہے اور اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ تجھے ایسی طلاق جو تیرے میرے درمیان تعلق نکاح کو کاٹ دے ۔ اب تعلق نکاح کا کٹنا ایک طلاق بائن سے بھی ہوتا ہے اور تین طلاق مغلظہ سے بھی ، لہذا یہ لفظ ایک طلاق بائن کا بھی احتمال رکھتا ہے اور تین طلاق کا بھی احتمال رکھتا ہے ،اس زمانے میں "البتة" کا لفظ عام طور پر تین طلاق کیلئے بولا جاتا تھا اسی لئے رسول اللہ نے حلف کے ذریعے حضرت رکانہ سے انکی نیت دریافت فرمائی اورجب انہوں نے حلفیہ یہ بیان دیا کہ میں نے اس لفظ سے ایک طلاق کی نیت کی تھی تو رسول اللہ نے ایک طلاق بائن کا حکم دے کر دوبارہ بذریعہ نکاح رجوع کا حکم ارشاد فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکی نیت پر حلف لینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر وہ صحابی تین طلاق مراد لیتے ،ایک طلاق مرادنہ لیتے تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام تین طلاق کے واقع ہونے کا حکم صادر فرمادیتے ۔ اور اگر تین طلاقوں سے ایک ہی طلاق مراد ہوتی تو پھر آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے قسم لینے کا کوئی فائدہ نہیں تھا، کہ آپ مطلقاً فرمادیتے ایک ہی طلاق ہوئی ہے تم تین کی نیت کرو یا نہ کرو۔ جیساکہ علامہ نووی نے شرح مسلم میں  فرمایا ہے: فلو كانت الثلاث لا تقع،لم يقع طلاقه هذا،واحتجوا أيضا بحديث ركانة أنه طلق امرأته ألبتة،فقال له النبي صلى الله عليه وسلم:ما أردت إلا واحدة،قال:الله ما أردت إلا واحدة،‌فهذا ‌دليل ‌على ‌أنه ‌لو ‌أراد ‌الثلاث لوقعن وإلا فلم يكن لتحليفه معنى وأما الرواية التي رواها المخالفون أن ركانة طلق ثلاثا فجعلها واحدة فرواية ضعيفة عن قوم مجهولين وإنما الصحيح منها ما قدمناه أنه طلقها ألبتة ولفظ ألبتة محتمل للواحدة وللثلاث ولعل صاحب هذه الرواية الضعيفة اعتقد أن لفظ ألبتة يقتضي الثلاث فرواه بالمعنى الذي فهمه وغلط في ذلك.(شرح النووي على مسلم،كتاب الطلاق،با الطلاق الثلاث، ج:10،ص:70)

 ترجمہ:اگر تین طلاقیں (اکٹھی) واقع نہ ہوتیں تو اس کی طلاق بھی واقع نہ ہوتی۔اور انہوں نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا کہ جیسے اس نے اپنی کو"طلاق بتہ"دی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"کیا تم نے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا؟"اس نے جواب دیا :جی ہاں،صرف ایک ہی کا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اگر وہ تین طلاق کا ارادہ کرتا تو وہ واقع ہوجاتیں،اور اگر تین کا ارادہ نہ ہوتا تو اس سے قسم لینے کا کوئی معنی نہیں ہوتا۔رہی وہ روایت جسے مخالفین (تینوں کو ایک ماننے والے)پیش کرتے ہیں کہ رکانۃ نے تین طلاقیں دی اور آپﷺ نے ان کو ایک قرار دیا ،تو وہ روایت ضعیف ہے اور مجہول راویوں سے منقول ہے،لہذا وہ ناقابل حجت ہے۔صحیح وہی ہے جس کوہم نے پہلے ذکر کیا کہ انہوں نے"طلاق بتہ"دی اور یہ ایک اور تین دونوں کا احتمال رکھتا ہے اور ممکن ہے کہ اس روایت کے راوی نے یہ سمجھا ہو کہ لفظ"بتہ"تین طلاقوں کا تقاضہ کرتا ہے،تو اس نے روایت بالمعنی کیا اور اس میں غلطی کی ۔

(6)امام ابوداد ، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے حدیثِ رکانہ کوانکے بیٹے یزید بن رکانہ کے حوالے سے اور امام ابوداود نے نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت کیا جیساکہ ماقبل دونوں حدیثیں بیان کی جا چکی ہیں، جبکہ امام احمد نے حدیثِ رکانہ کواپنی مسند میں ابن جریج کے حوالے سے روایت کیا،یہ بات واضح ہے کہ جب یزید بن رکانہ اور نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ حضرت رکانہ کے گھرکے افراد میں سے ہیں تویقیناً کسی دوسرے کے مقابلے میں وہ زیادہ جانتے ہوں گے کہ ان کےوالد بزرگوار حضرت رکانہ نے اپنی اہلیہ کو طلاق "البتة " دی تھی یا تین طلاقیں دی تھیں۔ لہذا محدثین نے یزید بن رکانہ اور نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ کی روایت کو ابن جریج کی روایت پر ترجیح دی اور ابن جریج کی روایت کو مجروح اور ناقابل قبول قرار دیا۔

امام ابو داودنے ارشاد فرمایا: لأنهم أهل بيته،وهو أعلم به.(سنن أبي داؤد،كتاب الطلاق،باب في البتة،رقم الحديث:2206)

 ترجمہ: یزید بن رکانہ حضرت رکانہ کے گھر کے افراد میں سے ہیں اور وہ اس معاملے کو زیادہ بہترجانتے ہیں۔

مندرجہ بالا تفصیل کےمطابق ان روایات سے استدلال کرنا جائز نہیں  اور نہ اس کی بنیاد پر امت کے اجماعی موقف کو ترک کیا جاسکتا ہے۔لہذا اگر کوئی تین مجلسوں میں الگ الگ تین طلاقیں دے یاتین کے عدد کی صراحت کے ساتھ ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے جیسے یوں کہے "تجھے تین طلاق ہے"،یاایک ہی مجلس میں تین بار صیغہ  طلاق کا تلفظ کرے اور عدد کی صراحت نہ کرے جیسے یوں کہے  "میں نے طلاق دی ،میں نے طلاق دی ، میں نے طلاق دی "۔تو تینوں صورتوں میں تین طلاقیں واقع ہوکر مدخول بھا عورت  طلاق مغلظ کے ساتھ علیحدہ  ہو جائے گی۔


فتویٰ نمبر : 6482/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور