بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
شوہر کی رضامندی کے بغیر قاضی کا نکاح نامہ میں بیوی کو طلاق کا اختیار دینا
سوال
میری شادی کے وقت میں نے قاضی صاحب سے درخواست کی کہ نکاح نامے کے ۱۸ نمبر کالم میں "نہیں" درج کیا جائے، لیکن مختلف حالات کی وجہ سے انہوں نے مجھے "نہیں" درج کرنے کی اجازت نہیں دی۔ نتیجتاً، ۱۸ نمبر شق (جہاں شوہر کی طرف سے بیوی کو مختلف شرائط کے تحت طلاق دینے کی طاقت اور اختیار درج ہوتا ہے) مکمل طور پر خالی ہونے کے باوجود میں نے نکاح نامے پر دستخط کیے۔ دستخط کے وقت مجھے معلوم تھا کہ میرے دستخط کے بعد قاضی صاحب خود بخود وہاں بیوی کو مختلف شرائط کے تحت طلاق دینے کی طاقت درج کر دیں گے۔ (حالانکہ میں اس سے مطمئن نہیں تھا اور میری طرف سے اس کی اجازت بھی نہیں تھی)۔ اس کے باوجود، میں نے ۱۸ نمبر شق مکمل خالی رہنے کی صورت میں دستخط کیے۔ اب میرا سوال یہ ہے: کہ قاضی صاحب نے میرے دستخط کے بعد شرائط کی بنیاد پر بیوی کو طلاق دینے کا اختیار دیا تھا ، چونکہ میں نے ۱۸ نمبر شق مکمل خالی رہنے کی صورت میں دستخط کیے تھے ،اور میں اس بات راضی بھی نہیں تھا کہ بیوی کو طلاق کا اختیا ر دیا جائے ،تو کیا اب یہ سمجھا جائے گا کہ میری بیوی نے خود کو طلاق دینے کا اختیار حاصل کر لیا ہے؟ اور اگر بیوی خود کو طلاق دے، تو کیا یہ طلاق شرعی طور پر نافذ ہوگی یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق دینے کا اختیار دینا شوہر کو حاصل ہے، شوہر جب چاہے اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے ،شوہر کے علاوہ کسی اور کو طلاق دینے کا حق نہیں ،البتہ اگر شوہر کسی کو وکیل بنادے یا بیوی کو طلاق دینے کا اختیار سونپ دے تو پھر وہ خود اپنے اوپر طلاق واقع کرسکتی ہے،نیز نکاح کے وقت جو بعض وجوہات اور شرائط کی بنیاد پر بیوی یا اس کے وکیل کو طلاق دینے کا اختیار دیا جاتا ہے اس میں ضروری ہے کہ نکاح کا ایجاب بمع شرائط عورت یا اس کے وکیل کی طرف سے ہو اور مرد کی جانب سے قبول ہو ،اگر ایسا نہ ہوا (یعنی ایجاب مرد نے کیا اور عورت یا اس کے وکیل نے قبول کیا) اور پھر شرائط لگائے تو یہ شرائط لغو ہوں گے اور نکاح بلا کسی شرط کے منعقد ہوگا ،اس لیے یہ شرائط تب معتبر ہوں گے جب نکاح سے پہلے مرد سے لکھوایا جائے اور وہ اس پر دستخط بھی کرلے ،یا نکاح کے وقت ہو لیکن عورت کی جانب سے ایجاب مع شرائط ہو اور مرد کی جانب سے قبول ہو (چاہے محض قبول ہو یا قبول مع شرائط ) ہو ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی سائل نے نکاح نامہ پر دستخط کرتے وقت قاضی سے یہ کہا ہو کہ بیوی کو اختیار طلاق نہیں ہوگا ،اور پھر نکاح نامے پر دستخط بھی اس صورت میں کیے کہ نکاح نامہ میں تفویض طلاق کی کوئی شرط درج نہیں تھی،توقاضی کا اپنی طرف سے بعد میں شرط لکھنے کا کوئی اعتبار نہیں، لہذا طلاق کا مالک صرف شوہر ہوگا، بیوی کو اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا حق نہ ہوگا۔
[فروع] نكحها على أن أمرها بيدها صح؛ (قوله صح) مقيد بما إذا ابتدأت المرأة فقالت زوجت نفسي منك على أن أمري بيدي أطلق نفسي كلما أريد أو على أني طالق فقال الزوج قبلت، أما لو بدأ الزوج لا تطلق ولا يصح الأمر بيدها كما في البحر عن الخلاصة والبزازية.(رد المحتار على الدر المختار ،كتاب الطلاق ، باب تفويض الطلاق،ج:3، ص: 329)
وإن ابتدأت المرأة فقالت: زوجت نفسي منك على أني طالق أو على أن يكون الأمر بيدي أطلق نفسي كلما شئت فقال الزوج: قبلت جاز النكاح ويقع الطلاق ويكون الأمر بيدها لأن البداءة إذا كانت من الزوج كان الطلاق والتفويض قبل النكاح فلا يصح. أما إذا كانت من المرأة يصير التفويض بعد النكاح لأن الزوج لما قال بعد كلام المرأة قبلت، والجواب يتضمن إعادة ما في السؤال صار كأنه قال: قبلت على أنك طالق أو على أن يكون الأمر بيدك فيصير مفوضا بعد النكاح.( رد المحتار على الدر المختار ،كتاب الطلاق ،مطلب في تعريف السكران و حكمه،ج: 3، ص:242)