بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نماز کے شروع میں زبان سے نیت کے الفاظ کہنا


سوال

ايك شخص  نمازکے شروع  میں دل ہی دل میں نیت کر چکا تھا، لیکن عادتاً زبان سے "نیت کرتا ہوں دو رکعت فرض نماز فجر..." کہہ رہا تھا، اسی دوران امام نے تکبیر کہی تو اس نے جلدی سے نیت کے الفاظ مکمل کیے بغیر ہی نماز شروع کر دی۔کیا اس کی نماز درست ہوئی؟نیت میں دل و زبان کے تضاد کا کیا حکم ہے؟کیا نیت زبان سے کرنا جائز  یا بدعت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نیت دل کے ارادے کانام ہے،نماز کی شرائط میں سے یہ ہے کہ نمازی کو دل سے یہ پتہ  ہو کہ وہ کونسی نماز پڑھ رہا ہے،اوراس نیت کا ادنی درجہ یہ ہے کہ اگر نمازی سے اس کی نماز کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ بلا تردد نماز کے بارے میں بتاسکے،نیزیاد رہے کہ زبان سے نیت کے مخصوص الفاظ پڑھنا ضروری نہیں، البتہ دل جمعی کی خاطر زبان سے بھی نیت کے الفاظ پڑھنا جائز   ہے،نیز نیت میں چونکہ دل کا ارادہ اصل ہےلہذا  اگر نمازی کے دلی ارادے اورزبان کے الفاظ کے مابین تضاد(اختلاف) واقع ہوجائے تودل کے ارادے کااعتبار ہوگا نہ کہ زبان سے کہے ہوئے الفاظ کا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر نمازی نے  دل میں نماز کی نیت کی ہو صرف زبان سے نیت کےالفاظ مکمل نہ کرے تو اس کی نماز درست ہوگی،اور اگر نیت کے سلسلے میں   زبان اوردل کے مابین  تضاد(اختلاف)  آجائے توزبان کی بجائے دل کے ارادے کااعتبار ہوگا۔

 

والنية هي الإرادة والشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي أما الذكر باللسان فلا معتبر به ويحسن ذلك لاجتماع عزيمته ثم إن كانت الصلاة نفلا يكفيه مطلق النية وكذا إن كانت سنة في الصحيح وإن كانت فرضا فلا بد من تعيين الفرض كالظهر مثلا لاختلاف الفروض. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الصلاة، باب الشروط التي تتقدمها، ج: 1، ص: 46)

النية إرادة الدخول في الصلاة والشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي وأدناها ما لو سئل لأمكنه أن يجيب على البديهة وإن لم يقدر على أن يجيب إلا بتأمل لم تجز صلاته ولا عبرة للذكر باللسان فإن فعله لتجتمع عزيمة قلبه فهو حسن كذا في الكافي.ومن عجز عن إحضار القلب يكفيه اللسان كذا في الزاهدي. ( الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة، الفصل الرابع، ج: 1، ص: 65)

(قوله: تكفيه النية بلسانه) إطلاق النية على اللفظ مجاز. اهـ. ح: أي لأن النية عمل القلب لا اللسان، وإنما الذكر باللسان كلام، ومن ثم حكى الإجماع على كونها بالقلب، فقد سقطت النية هنا للعذر فسقط القول بعدم سقوطها. بقي أن ‌التلفظ بها للعاجز إن كان غير شرط فلا إشكال؛ ولذا اختار في الهداية أن ‌التلفظ بها مستحب لمن لم تجتمع عزيمته وإن كان شرطا كما هو المتبادر من كلام القنية. ورد عليه ما في الحلية شرح المنية لابن أمير الحاج أنه نصب بدل بالرأي وهو ممنوع إلا أن يظهر دليله، وأقره في المنح. ( رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الطهارة، ج: 1، ص: 80)


فتویٰ نمبر : 10734/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور