بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
امام کی اقتدامیں مسبوق کے سہو کا حکم
سوال
اگرمدرک نے امام کے پیچھے کوئی ایسی غلطی کی جس کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہو تو اس سے تو مدرک پر سجدہ سہو لازم نہیں آتا کیونکہ ایسی حالت میں دو صورتیں ہیں ایک صورت یہ ہے کہ مدرک امام کے سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے یہ جائز نہیں کیونکہ اس میں امام کی مخالفت لازم آتی ہے دوسری صورت یہ ہے کہ مقتدی امام کے سلام کے بعد سجدہ سہو کرے یہ بھی ممکن نہیں مدرک امام کے سلام پھیرنے کے بعد نماز سے نکل جاتا ہے یہ تو مدرک کی صورت حال تھی لیکن اب سوال یہ ہے کہ کہ اگر مسبوق سے ان رکعتوں میں جو اس نے امام کے ساتھ پڑھی ہیں ایسی غلطی ہوجائے جس سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہو اب تو مسبوق دوسری صورت میں داخل نہیں ہے کیونکہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسبوق اپنی فوت شدہ نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑا ہوگا کیامسبوق اب اپنی نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرے گا یا نہیں ؟
جواب
جاننا چاہیے کہ مسبوق سے امام کی اقتداء کےدوران کوئی سہو ہوجائے تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ امام کے ہوتے ہوئے مقتدی کے سہو کا اعتبار نہیں ہوتا البتہ باقی نماز پوری کرنے میں اگر اس سے کوئی سہو صادر ہوجائے تو پھر سجدہ سہو واجب ہوجاتاہے ،کیونکہ مسبوق باقی نماز پوری کرنے میں منفرد کے حکم میں ہے اور منفرد سے جب سہو صادر ہوجائے توا س پر سجدہ سہو واجب ہوجاتاہے۔
لہذا صورت مسؤلہ میں مسبوق کے لیے اگرچہ سجدہ سہو ممکن ہے لیکن پھر بھی اس پر سجدہ سہو نہیں کیونکہ امام کی اقتداء میں ہونے والی سہو کا اعتبار نہیں۔
وهل يلزمه سجود السهو لأجل سلامه؟ ينظر إن سلم قبل تسليم الإمام أو سلما معا لا يلزمه؛ لأن سهوه سهو المقتدي، وسهو المقتدي متعطل، وإن سلم بعد تسليم الإمام لزمه؛ لأن سهوه سهو المنفرد فيقضي ما فاته ثم يسجد للسهو في آخر صلاته.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:1،ص:176)
أن المسبوق يتابع إمامه في سجود السهو ،ثم إذا قام إلى القضاء وسها فإنه يسجد ثانيا ...لأن المسبوق فيما يقضي كالمنفرد.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،ج:2،ص:107)