بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عمرے میں سر كے كسی ایک حصے کے بال کاٹنا


سوال

اگر کوئی شخص  عمرہ میں  قصر کرے لیکن وہ اپنے سر کے  کسی ایک  حصے سے کچھ بال کاٹے،تو کیا ایسے شخص پر دم یا صدقہ واجب ہو گا  یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عمرے یا حج کے احرام سے نکلنے کے لیے  آخری عمل  ’’حلق‘‘ یا ’’قصر ‘‘ ہے، افضل یہ ہے کہ مرد حضرات پورے سر کے بال منڈوائیں اسے ’’حلق‘‘  کہاجاتاہے۔اوراگر کوئی شخص حلق نہیں کروانا چاہتا تو  کم از کم چوتھائی سر کے بال ایک پورے کی مقدار کاٹناضروری ہے، سر کےجس حصے سے بھی چوتھائی سر کی مقدار ایک پورے کے بقدر بال کاٹ دیے تو احرام سے حلال ہوجائے گا۔البتہ قصر کی صورت میں بھی بہتر یہ ہے کہ پورے سر کے بال ایک پورے کے برابر کاٹے۔  چوتھائی سر سے کم اور ایک پورے  کی لمبائی سے کم مقدار بال کاٹنا عمرہ یا حج کے احرام سے حلال ہونے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص   عمرے  کے آخر میں اپنے سر کے کسی ایک حصے سے چوتھائی سر کے بقدر قینچی سےایک پورے کی مقدار بال کاٹ لے، تو وہ احرام سے حلال ہو جائے گا  البتہ اگر چوتھائی سر سے کم  مقدار میں  بال کاٹ لے  ،اگر چہ سر کے کسی ایک حصے سے کیوں نہ ہوں،تو   ایسی صورت میں وہ احرام سے حلال نہ ہو گا اور ایسی صورت میں اس پر حدودِ حرم میں دم ادا کر نا لازم ہوگا۔

 

ثُمَّ يَحْلِقُ أَوْ يُقَصِّرُ وَالْحَلْقُ أَفْضَلُ، كَذَا فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّوَلَيْسَ لِلْمُحْرِمِ إزَالَةُ شَعْرِهِ بِغَيْرِهِمَا كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ. وَالتَّقْصِيرُ أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ مِنْ رُءُوسِ الشَّعْرِ رُبْعَ الرَّأْسِ مِقْدَارَ الْأُنْمُلَةِ، كَذَا فِي التَّبْيِينِ. وَفِي الْبَدَائِعِ قَالُوا يَجِبُ أَنْ يَزِيدَ فِي التَّقْصِيرِ عَلَى قَدْرِ الْأُنْمُلَةِ إذْ أَطْرَافُ الشَّعْرِ غَيْرُ مُتَسَاوِيَةٍ عَادَةً فَوَجَبَ أَنْ يَزِيدَ عَلَى قَدْرِ الْأُنْمُلَةِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ قَدْرَ الْأُنْمُلَةِ فِي التَّقْصِيرِ يَقِينًا، كَذَا فِي غَايَةِ السُّرُوجِيِّ شَرْحِ الْهِدَايَةِ.الفتاوى الهندية،كتاب المناسك،الباب الخامس في كيفية أداءالحج،ج:1،ص:231)


فتویٰ نمبر : 10751/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور