بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مسجد میں ریکارڈ شدہ آذان سنانا
سوال
بعض مساجد میں یہ معمول ہےکہ جب نماز کا وقت داخل ہوتا ہے ، تو مؤذن خود آذان نہیں دیتا، بلکہ ایک اٹومیٹک سسٹم کے ذریعےریکارڈ شدہ آذان چلائی جاتی ہے، یعنی مقررہ وقت پر آذان خود بخود اسپیکر پر شروع ہوجاتی ہے، تو کیااس طرح ریکارڈ شدہ آذان دینا جائز ہے؟اور کیااس سے آذان کی سنت ادا ہوجاتی ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اذان ایک مستقل عبادت ہے اور عبادت کی صحت کےلیےعقل اور اختیار کاہونا ضروری ہے۔
لہذاصورت مسئولہ کے مطابق آٹومیٹک ریکارڈ شدہ آذان دینے میں چونکہ عقل اور اختیار دونوں موجود نہیں اس وجہ سے اس سےآذان کی سنت ادا نہیں ہوتی۔
وأما أذان الصبي الذي لا يعقل فلا يجزئ ويعاد؛ لأن ما يصدر لا عن عقل لا يعتد به كصوت الطيور.
(ومنها) : أن يكون عاقلا، فيكره أذان المجنون والسكران الذي لا يعقل؛ لأن الأذان ذكر معظم وتأذينهما ترك لتعظيمه، وهل يعاد؟ ذكر في ظاهر الرواية: أحب إلي أن يعاد؛ لأن عامة كلام المجنون والسكران هذيان، فربما يشتبه على الناس فلا يقع به الإعلام.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ، کتاب الصلاۃ،فصل بیان سنن الأذان،ج:1،ص150)