بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
فلاحی تنظیموں کوزکوۃ دینا
سوال
آج کل فلاحی تنظیمیں گاؤں گاؤں میں بنی ہوئی ہیں جو لوگوں سے صدقہ خیرات اور زکوٰۃ وصول کرتے ہیں اور پھر ان پر راشن وغیرہ خرید کر غریب اور مستحقین میں بانٹا جاتا ہے ، تو کیا ان ان اداروں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟
جواب
واضح رہےکہ زکوۃ کو مصرف تک پہنچانے کےلیے کسی ادارہ کےبااعتمادسربراہ یا نمائندہ کو وکیل بنانے کی گنجائش ہے۔
لہذاصورت مسٔولہ میں جو رفاہی ادارے معتمد لوگوں کی نگرانی میں چلتے ہوں، اور اہل علم سے پوچھ کر مصارف تک زکوةپہنچانے کا اہتمام کرتے ہوں،تو ان کو زکوۃ یا دیگر صدقات واجبہ دینا درست ہے۔لیکن جن رفاہی اداروں کے ذمہ داران کااعتماد پر پورا اترنا مشکل ہو یا زکوۃ کو مصارف تک پہنچانے کےشرعی تقاضوں پر عمل غیر یقینی ہو تو ایسے اداروں کو زکوۃ یا صدقات واجبہ دینے سے احتراز کرنا چاہئے تاکہ کہیں یہ اہم فریضہ بے احتیاطی کی وجہ سے ذمے پر باقی نہ رہ جائے۔
قال اللہ تعالی:﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِين﴾(التوبة:59)
إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسير الزكاةوصفتها،ج:1،ص:171)