بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کھیلوں میں انٹری فیس دے کر انعام جیتنا


سوال

آج کل کھیلوں کے ٹورنمنٹ ہوتے ہیں اس میں جو ٹیم حصہ لینے کا خواہشمند ہووہ انٹری فیس ادا کرتاہے اسی طرح تحریری اور تقریری مقابلے بھی ہوتے ہیں اس میں بھی حصہ لینے والے پہلے انٹری فیس ادا کرتے ہیں اورآخر میں جیتنے والے کو اسی انٹری فیس والی رقم سے انعامات ونقد دیتے ہیں  شریعت کے رو سے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

جاننا چاہیے کہ جس مقابلہ میں  شامل ہونے کے لیے فیس لی جاتی ہو تواگروہ فیس صرف انتظامیہ اخراجات پورے کرنے کی خاطر ملےاور  جیتنے والے فریق کو انعام کسی تیسرے فریق کی طرف سے مل رہا ہوتو ایسے کھیلوں میں حصہ لینا اور جیتنے کی صورت میں انعام لینا شرعاً  جائز ہے لیکن اگر انعام اسی فیس والی رقم سے دی جارہی ہوتو شرعاً یہ جوے کے زمرے میں آکر ناجائز متصور ہوگا کیونکہ اس صورت میں ہر شریک ایک مبہم  نفع ونقصان کے درمیان رہتاہے جو کہ شرعاً جوا ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب جیتنے والے فریق کو انٹری فیس والی رقم سے انعام ملتا ہے توشرعاً یہ جوے کے زمرے میں آکر ناجائز متصور ہوگا۔ اسی طرح  داخلہ لینے والے فریق کا  مقصود صرف میچ کھیلنا نہیں ہوتا بلکہ کم  پیسے دے کر زیادہ رقم والاانعام جیتنا مقصود ہوتا ہے جوکہ قمار یعنی جوئےکی ایک صورت ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

 

(وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) ‌لأنه ‌يصير ‌قمارا. (قوله من الجانبين) بأن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا زيلعي وكذا إن قال إن سبق إبلك أو سهمك إلخ تتارخانية (قوله ‌لأنه ‌يصير ‌قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.(ردالمحتار على الدر المختار،فصل في البيع،ج:6،ص:403)

وكذلك ما يفعله السلاطين وهو أن يقول السلطان لرجلين: من سبق منكما فله كذا فهو جائز لما بينا أن ذلك من باب التحريض.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب السباق،ج:6،ص:206)


فتویٰ نمبر : 6469/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور