بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد اذان سے پہلے نماز پڑھنے کا حکم


سوال

جب نماز کاوقت ہوجائے تو نماز پڑھ لیں یا اذان کا انتظار کرنا چاہیے جیسے آج کل عشاء کاوقت 9:00پر ہو جاتا ہے اور اذان ہمارے شہر میں دس منٹ بعد ہوتی ہے تو اذان کا انتظار کریں یا وقت ہوتے ہی نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اور جو نمازیں نماز کاوقت ہوتے ہی پڑھ لیں اذان کا انتظار نہیں کیا تو وہ ادا ہوئیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  اذان  نماز کا وقت داخل ہونے کے اعلان کے لیے اور باجماعت نماز کی طرف دعوت دینے کے لیے ہوتی ہے، اس لیے خواتین اپنے گھروں پر نماز کا وقت داخل ہوتے ہی نماز پڑھ سکتی ہیں چاہے اذان نہ ہوئی ہو، لیکن مردوں کو تو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ اور واجب کے درجہ میں ہے، اس لیے مرد اگر بلا کسی عذر کے نماز کا وقت ہوتے ہی اذان سے پہلے گھر میں اپنی انفرادی نماز پڑھ لے تو اس کاذمہ فارغ  ہوجائے گا ، لیکن جماعت چھوڑنے کا گناہ ملے گا، البتہ اگر کوئی شرعی عذر (بیماری، سفر یا شدید بارش وغیرہ) ہوتو  پھر گناہ نہیں ملے گا۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں اگر شرعی عذر نہ ہوتو اذان کا انتظار کرنا چاہیے اور مسجد میں جماعت سے نماز ادا کرنی چاہیے،باقی جو نمازیں پڑھ لی ہیں وہ ادا ہوگئی ہیں،اس کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے ۔

 

‌الأصل ‌في ‌مشروعية ‌الأذان ‌الإعلام ‌بدخول ‌الوقت.( رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الأذان، ج:1، ص:383 )

(‌والجماعة ‌سنة ‌مؤكدة ‌للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب، إلا في جمعة وعيد، فشرط.....، (فلا تجب على مريض ومقعد وزمن ومقطوع يد ورجل من خلاف) أو رجل فقط، ذكره الحدادي (ومفلوج وشيخ كبير عاجز وأعمى) وإن وجد قائدا (ولا على من حال بينه وبينها مطر وطين وبرد شديد وظلمة كذلك).( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ص:76 )

وقال في شرح المنية: والأحكام تدل على الوجوب، من أن تاركها بلا عذر يعزر وترد شهادته، ويأثم الجيران بالسكوت عنه، وقد يوفق بأن ذلك مقيد بالمداومة على الترك كما هو ظاهر قوله صلى الله عليه وسلم "لا يشهدون الصلاة" وفي الحديث الآخر "يصلون في بيوتهم".( رد المحتار، (1/ 552)

(الباب الثالث في شروط الصلاة)وهي عندنا سبعة: الطهارة من الأحداث، والطهارة من الأنجاس، وستر العورة واستقبال القبلة والوقت والنية والتحريمة.( الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، باب في شروط الصلاة، ج:1، ص:58 )

(‌و) ‌سببه (‌بقاء ‌دخول ‌الوقت ‌وهو ‌سنة) للرجال في مكان عال (مؤكدة) هي كالواجب في لحوق الإثم (للفرائض) الخمس (في وقتها ولو قضاء) لأنه سنة للصلاة حتى يبرد به لا للوقت (قوله: للرجال) أما النساء فيكره لهن الأذان وكذا الإقامة، لما روي عن أنس وابن عمر من كراهتهما لهن؛ ولأن مبنى حالهن على الستر، ورفع صوتهن حرام إمداد.( رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الأذان، ج:1، ص:384 )


فتویٰ نمبر : 10731/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور