بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
کسی چیز کو نقد پر خرید کر ادھار کی صورت میں منافع پر بیچنا
سوال
ایک شخص نے نقد دو لاکھ روپے کا موٹر سائیکل خرید کردوسرے شخص پر ایک سال کی مدت پر دو لاکھ بیس ہزار میں بیچ دیا، اور اسے کہا کہ ایک سال بعد تم مجھےدو لاکھ بیس ہزار روپے واپس کرو گے۔کیا یہ سود (ربا) ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ ہر شخص کو اپنی مملوکہ چیز نقد وادھار دونوں طرح فروخت کرنے کا اختیار ہوتا ہے، نیزادھارکی صورت میں نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت مقرر کرنا بھی شرعاً جائز ہے، تاہم مجلسِ عقد میں ادائیگی کی مدت اور قیمت کی تعیین ضروری ہے۔
صورتِ مسؤلہ کے مطابق کسی شخص کا نقد دو لاکھ روپے کا موٹر سائیکل خرید کر کسی دوسرےشخص پر متعین مدت کے لیے ادھار کی صورت میں دو لاکھ بیس ہزار پر بیچنا جائز ہے۔ یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا۔
قال: "ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما" لإطلاق قوله تعالى:﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ [البقرة: 275]. (الهداية، كتاب البيوع، ج:3، ص:24)
لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل.(الهداية،كتاب البيوع،باب المرابحة و التولية،ج:3،ص:58)
وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (المبسوط للسرخسي، كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة، ج:13، ص:8)