بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بچی کے لئے گڑیا نام رکھنا


سوال

 میں نے اپنی بیٹی کے لئے گڑیا نام پسند کیا ہے توآیابچی کے لئے گڑیا نام رکھنا یا بچی کو گڑیا کہہ کرپکارنا شرعی طور پر جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بچے کے لیے اچھے نام کاانتخاب اس کےحقوق میں سے ہے۔والدین کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ بچےکےلیے ایسے نام کا انتخاب کریں جوکسی نبی ،صحابی  یا نیک بندے کا نام ہو اور صحیح معنی والا ہو، ،اس  کے علاوہ جو نام بے معنی ہو ،اس سےاحتراز ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں "گڑيا" نام اردولغت ميں  بہت سے معانی كے لئے آتا ہے ،جيسے:كپڑے كي بنی ہوئی پتلی جس سے لڑكياں كھیلتی ہیں،بچی ، خوبصورت لڑکی یا لڑکا وغیرہ، معنی کے لحاظ سے اس کی گنجائش ہے، تاہم اگر اس نام کی بجائے کسی صحابیہ کانام  رکھا جائے تو بہتر ہوگا ۔

 

عن ‌أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إنكم ‌تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم".( سنن أبي داؤد،كتاب الأدب،باب في تغيير الأسماء، ج:4،ص:442)

( گڑيا ، كپڑے كي بني هوئي پتلي جس سے لڑكياں كھیلتی ہیں،بچی ، خوبصورت لڑکی  یا لڑکا ،فیروز اللغات،مادۃ،گ،ڑ،ی،ص:433)


فتویٰ نمبر : 6457/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور