بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
مسجد کی سیڑھی ذاتی کا م کے لیے استعمال کرنا
سوال
کیا مسجد کی سیڑھی ذاتی کام کے لیے مثلاً گھر میں کوئی کام ہو اس کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ مسجد کی چیز یں وقف کے حکم میں ہوتی ہیں ان کو ذاتی استعمال میں لانا یا کسی کو دینا جائز نہیں ،نہ امامِ مسجد کو اختیارحاصل ہےاور نہ ہی مسجد کے متولی کو کہ وہ کسی کو مسجد کی چیزیں دے۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق مسجد کی سیڑھی ذاتی استعمال کے لیے لے جاناجائز نہیں ۔
ولا تجوز إعارة الوقف والإسكان فيه، كذا في محيط السرخسي.(الفتاوی الهندية،كتاب الوقف،الباب الخامس في ولاية الوقف وتصرف القيم في الأوقاف،ج:2،ص:420)
متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوی الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادی عشرفي المسجد وما یتعلق به وفيه فصلان،ج:2،ص:462)