بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مخصوص طریقے اور دن پرایصال ثواب کو لازم قرار دینا


سوال

ہمارے گاؤں میں چند  سال سے ایک کام شروع ہوا ہے  کہ جب بھی کوئی فوت ہو جاتا ہے، تو اس کے بعد ہر جمعرات  گاؤں  کی جامع مسجد میں اجتماعی طور پر گھٹلیاں پڑھی جاتی ہیں ، کیا اس طرح کرنا شریعت میں جائز ہے ؟جب کہ یہ عمل مسلسل جاری ہے، نیز جو کوئی گٹھلیاں نہ پڑھے اور اٹھ کر جانے لگے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ کیا تم نہیں مروگے، تمہارے لیے بھی گٹھلیاں نہیں پڑھیں گےبراہ کرم ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے نفلی نماز، روزہ، صدقہ یا قرآن کی تلاوت وغیرہ کا ایصال ثواب درست ہے، تاہم اگراپنی طرف سے کسی مخصوص طریقے کا اس طرح اہتمام کیا جائے کہ اس کے چھوڑنے والے کو ملامت کیا جائے، تو یہ بدعت اوردین میں زیادتی قراردی جائے گی جو کہ ناجائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق گٹھلیوں پر ذکر کرکے اس کا ایصال ثواب درست ہے، لیکن اگراس عمل کے لیےایک خاص دن مقرر کرکے اتنا زیادہ اہتمام کیا جائےکہ نہ کرنے والے کو ملامت کیا جاتا ہو، تو پھریہ دین میں زیادتی کے مترادف ہوکر ناجائزہوگا۔

 

 والأصل ‌فيه ‌أن ‌الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا للكتاب والسنة. (البحر الرائق، ج:3، ص: 6)

(البدعة) ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما. (رد المحتار على الدر المختار، ج:1، ص: 561)


فتویٰ نمبر : 6454/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور