بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
دوصریح طلاقوں کے بعد کنائی طلاق دینا
سوال
ایک شخص کی اپنی بیوی کیساتھ فون پربات ہورہی تھی اس دوران آپس میں جھگڑا ہوگیا اور بیوی نے فون پرہی طلاق کا مطالبہ کیا تو شوہر نے دو مرتبہ یہ الفاظ کہے "میں نے تجھےطلاق دی" اور تین مرتبہ یہ الفاظ کہے "میں نے تجھے چھوڑدیا"اب اس صورت میں کونسی طلاق واقع ہوگی ؟
جواب
جاننا چاہیے کہ اگر شوہر بیوی کو مطالبہ طلاق پر دو صریح طلاقیں دینے کے بعد ایسا کنائی جملہ کہہ دے جس میں مطالبہ طلاق کا جواب بننے کی صلاحیت ہوتوشرعاً اس سے عورت پر تیسری طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق جب بیوی نے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا اورشوہر نے اس کے جواب میں دو مرتبہ" میں نے تجھے طلاق دی "کے الفاظ کہے اور اس کے بعد مزید تین مرتبہ یہ جملہ کہہ دیا کہ"میں نے تجھے چھوڑدیا" تو وہ عورت تین طلاقوں سے مغلظہ بن گئی۔
ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية.
( الفتاوى الهندية، الفصل الخامس في الكنايات،ج:1،ص:375)