بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
صلوا في رحالكم کی تحقیق اور موجودہ دور میں اس کا استعمال
سوال
شدید بارش یا وبا کے وقت مؤذنین کا اذان میں "صلوا في رحالكم" کہنا کیا کسی روایت سے ثابت ہے؟ کیا موجودہ دور میں اس کا استعمال جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ نماز با جماعت ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے،البتہ بعض اعذار کی وجہ سے یہ سنت ساقط ہوجاتی ہے ،جن میں ایک شدید بارش اور کیچڑ ہے،جب مسجد جانا اور جماعت میں شریک ہونا مشکل ہو ،چنانچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمر سے منقول ہے کہ ایک دفعہ سفر کے دوران انہوں نے اذان دی اور پھر لوگوں میں اعلان کیا " ألا صلوا في رحالكم " کہ اپنے خیموں میں نماز ادا کرو، حضورﷺ کے زمانے میں جب سرد رات ہوتی تھی یا بارش زیادہ ہوجاتی تھی ،تو آپﷺ مؤذنین کو یہی حکم فرماتے کہ اذان میں یہ اعلان کریں،کہ لوگ گھروں نماز میں ادا کریں ۔ فقہاے کرام نے اس روایت کو رخصت پر محمول کیا ہے ،کہ اگر بارش زیادہ ہورہی ہو ،تو پھر گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے،البتہ بلا کسی عذر یا معمولی بارش کی وجہ سے جماعت نہیں چھوڑنی چاہیے ۔
صورت مسئولہ میں ذکر شدہ الفاظ صحیحین کی روایت میں موجود ہیں،اور آپﷺ سے ثابت ہے کہ جب بارش زیادہ ہوجاتی تو آپﷺ مؤذنین کو یہی حکم فرماتے کہ اذان میں یہی اعلان کریں، اس لیے جب کوئی ایسا موقع ہو اور لوگوں کے لیے جماعت میں شرکت کرنا مشکل ہو، تو مسجد سے یہ اعلان کی جاسکتی ہے ۔
عن نافع قال:أذن ابن عمر في ليلة باردة بضجنان، ثم قال: صلوا في رحالكم، فأخبرنا: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر مؤذنا يؤذن، ثم يقول على إثره: (ألا صلوا في الرحال). في الليلة الباردة، أو المطيرة في السفر.( صحيح البخاري ،كتاب الصلاة،باب الأذان للمسافر... و قول المؤذن :الصلاة في الرحال في الليلة البارة أو المطيرة،ج:1،ص:227)
(وعن ابن عمر، أنه أذن) ...(صلوا في الرحال) أي في البيوت والمنازل، قال الطيبي، أي: الدور والمساكن، رحل الرجل منزله ومسكنه. (ثم قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر المؤذن إذا كانت) أي: وقعت (ليلة) : بالرفع (ذات برد) : صفتها أي: صاحبة برد شديد (ومطر) أي كثير، وفي رواية للشافعي زيادة وريح (يقول: " ألا صلوا) : أمر إباحة (في الرحال) : للعذر، قال ابن الهمام، عن أبي يوسف: سألت أبا حنيفة عن الجماعة في طين وردغة، أي: وحل كثير؟ فقال: لا أحب تركها، وقال محمد في الموطأ: الحديث رخصة يعني قوله عليه السلام: " «إذا ابتلت النعال فالصلاة في الرحال» ". (متفق عليه) : قال ميرك: ورواه أبو داود، وأحمد.قال ابن حجر: ويوافقه خبر مسلم: «خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمطرنا، فقال: " ليصل من شاء في رحله» "، وصح: «كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية فأصابنا مطر قليل لم يبل أسفل نعالنا، فنادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم: صلوا في رحالكم» .(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الصلاة، باب الجماعة و فضلها،ج:3،ص:834)
(قوله ولا على من حال بينه وبينها مطر وطين) أشار بالحيلولة إلى أن المراد المطر الكثير كما قيده به في صلاة الجمعة. وكذا الطين وفي الحلية، وعن أبي يوسف: سألت أبا حنيفة عن الجماعة في طين وردغة، فقال: لا أحب تركها. وقال محمد في الموطأ: الحديث رخصة، يعني قوله صلى الله عليه وسلم «إذا ابتلت النعال فالصلاة في الرحال» والنعال: هنا الأراضي الصلاب وفي شرح الزاهدي عن شرح التمرتاشي: واختلف في كون الأمطار والثلوج والأوحال والبرد الشديد عذرا وعن أبي حنيفة: إن اشتد التأذي بعذر.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب الإمامة،ج:1،ص:555)