بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سوتیلی ماں کی اس بیٹی سے نکاح کرنا جو دوسرے شوہرسےہو


سوال

زید کی ایک بیوی ہے شازیہ اور اس سے ایک بیٹی ہے گل ناز بی بی ،پھر زید نے ایک دوسری بیوہ خاتون خان زرینہ سے شادی کی جس کے ساتھ اپنے سابقہ شوہر سے ایک بیٹارحیم خان ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ رحیم خان ،گل ناز بی بی کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

سوتیلی ماں کی اولاد جو اس کے دوسرے شوہر سے ہو اس سے نکاح کرنا جائز ہے؛ کیوں کہ والد کی منکوحہ ہونے کی وجہ سے سوتیلی ماں خود تو حرام ہوجاتی ہے، البتہ سوتیلی ماں کی اولاد (جووالد كے علاوه دوسرے شوہر سے ہو)سے محرمیت کا کوئی رشتہ قائم نہیں ہوتا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق زید کی دوسری بیوی (خان زرینہ)کا اس کےپہلے شوہر سے جو بیٹا (رحیم خان)ہے،اس کازید کی پہلی بیوی (شازیہ) کی بیٹی( گل ناز بی بی) سے نکاح کرنا جائز ہے۔

 

وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال.قال ابن عابدين:(قوله:وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر. قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب. (رد المحتار على الدر المختار،کتاب النکاح، ‌‌فصل في المحرمات،ج:3،ص:31)

‌لا ‌بأس ‌بأن ‌يتزوج ‌الرجل ‌امرأة ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها،كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية،كتاب النكاح الباب الثالث،القسم الرابع المحرمات بالجمع،ج:1،ص:277)


فتویٰ نمبر : 7260/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور