بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مغرب اور عشا کا درمیانی وقفہ
سوال
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک گھنٹہ اور پندرہ منٹ یعنی 75 منٹ کا فاصلہ ہے اور یہ فاصلہ ہر موسم میں یہی متعین ہے گویا تاقیام قیامت یہی مسئلہ ہے اور بس اور اسی طرح قریب قریب رائے فتاویٰ فریدیہ اور فتاویٰ حقانیہ کے بعض فتاویٰ کی عبارات سے بھی مترشح ہے کہ 75منٹ کا فاصلہ پایا جاتا ہے گو احتیاط کی بات بھی لکھ دی ہے کہ احتیاطاً اس سے زیادہ مقدار پر نماز کھڑی کردی جائے اور فتاویٰ حقانیہ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ مقدار کی کوئی تحديد نہیں، البتہ مغرب کی اذان کے بعد سوا گھنٹہ (75 منٹ) بعد عشاء کی اذان دینی چاہیے، لیکن فتاویٰ حقانیہ کی یہاں والی بات بھی مطلق ہے کہ بس اذان دینی چاہیے، چاہے جو بھی موسم ہو، جبکہ اکثر علماء محققین اور ملک کے نامور مفتیان کرام کی تحقیق یہ ہے کہ یہی مذکورہ بالا مقدار موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے تبدیل ہوجاتی ہے۔ موسم گرما اور سرما اور درمیان میں یہی مقدار یکساں نہیں رہتی عموماً موسم گرما میں یہی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ 35، بلکہ 38 یا 39 منٹس تک یعنی 95 وغیرہ منٹس تک بھی پہنچ جاتی ہے اور کم بیش بھی ہوجاتی ہے کم سے کم مقدار عمومی طور پر موسم سرما میں ایک گھنٹہ پندرہ منٹ تک اور کم وبیش ہوجاتی ہے۔ بہرصورت یہی 75 منٹ مقدار متعین ومحدود ہر موسم میں نہیں اور اس رائے پر اکثر فتاویٰ جات فتاویٰ دارالعلوم دیوبند وغیرہ دال ہیں اور آج کل کے بڑے دارالافتاء کراچی اور باہر کے علماء اور ماہرین فلکیات کی بھی یہی تحقیق ہے کہ یہ جو 15درجہ یا 18 درجہ کا قول ہے اکثر نے 18 درجہ پر فتویٰ جاری کیا ہے اور اہل تحقیق اور ماہرین فلکیات نے اسی 18 درجہ کی تحقیق کو درست پایا ہے۔باقی مزید مفتی بہ قول آپ مفتیان کرام سے مطلوب ہے گو اس کا تعلق مشاہدہ سے ہے اور سابقہ تفصیل اور موجودہ علماء کرام ومفتیانِ عظام اور ماہرین فلکیات کے تجربات ومشاھدات کی بناء پر جو آج کل رائج نقشہ جات ہیں ان میں بھی وقت عشاء تاخیر سے داخل ہونے کا لکھا جاچکا ہے اور ان میں بھی ایسا نہیں ہے کہ ہر ماہ میں یہی 75 متعین منٹس درج ہیں بلکہ موسم اور ایام کی تبدیلی کی وجہ سے الگ الگ اوقات درج ہیں، اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مفتی بہ قول شفق ابیض ہے نہ کہ شفق احمر اور شفق ابیض کی غیبوبت پر عشاء کا وقت داخل ہونا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول بھی ہے جوکہ احوط ہے اور سابقہ رائج نقشے جوکہ مفتیان کرام اور ماہرین کی نگرانی میں مرتب کیے گئے ہیں، ان سے مفتی بہ قول أمام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا معلوم ہوتا ہے کہ شفق ابیض کی غیبوبت پر وقت عشاء داخل ہوجاتا ہے جبکہ صاحبین کے قول کے مطابق شفق احمر پر، تقریباً 12 منٹ کا فرق ہے جبکہ صحیح قول کے مطابق مابین المغرب والعشاء والا فاصلہ جس دن ہوتا ہے اسی دن صبح صادق اور طلوع شمس کے مابین بھی ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہی فاصلہ بھی ہر موسم میں 75 منٹ نہیں ہے۔
اور ہر موسم میں اس فاصلہ کو یکساں قرار دینے کی صورت میں خصوصاً رمضان المبارک کی سحری کے بعد طلوع فجر کے بعد بھی یہی مسئلہ ہوگا کہ 75 منٹ کو تاقیام قیامت قرار دینے کی صورت میں عند البعض سحری بند کرنے اور عند البعض سحری جاری رکھنے اور کھانا پینا جاری رکھنے کا اختلاف ومسئلہ بھی پیش ہوگا۔ باقی امام صاحب کا قول اور درجہ 18 کاقول لینے میں احتیاط بھی ہے اور استحباب بھی ہے بہ نسبت صاحبین کے قول کے، جبکہ مذکورہ تفصیل بالا کی بناء پر فتویٰ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر معلوم ہوتا ہے اور عشاء کو تو اگر ہم ابتدائی ثلث تک جوکہ وقت مستحب ہے مؤخر نہیں کرسکتے تو کم از کم امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق قول سے مؤخر تو نہیں کرنا چاہیے۔
البتہ علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے الدرالمختار میں اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے فتاویٰ شامی میں اور اسی طرح شرح وقایہ میں مجمع علیہ اور مفتی بہ قول صاحبین کا لکھا ہوا ہے۔
اب اس بارے میں ہم بھی متحیر ہیں کہ کس قول کو لیا جائے، دارالعلوم دیوبند اور دیگر دارالافتاء اور فتاویٰ جات سے اور نقشہ جات سےتو تاخیر والا وقت معلوم ہوتا ہے جبکہ صاحبین کے قول کے مطابق تو جلدی وقت داخل ہوجاتا ہے تو ہم کس پر عمل کریں کیا یہ نقشہ جات اور اکثر فتاویٰ جات وعلمائے کرام وماہرین فلکیات کی بات غلط ہے کیا؟ اور بعض نقشوں میں تو دو وقت لکھے گئے ہیں ایک شفق احمر کے حساب سے اور دوسرا شفق ابیض کے حساب سے، عام طور پر شفق ابیض کے حساب سے لکھے ہوئے وقت کے مطابق یہاں اکثر مساجد میں اذانیں اور نماز عشاء ادا کی جاتی ہے۔
مذکورہ کچھ مختصر معروضات اس لئے پیش کئے تاکہ ان تمام باتوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے ہماری راہنمائی فرمائیں تاکہ ہمارے عوام کے لئے یہ مسئلہ ہموار ہوجائے اور عبادات کے اندر کوئی خلل نہ آئے۔ شریعت مطہرہ کی رو سے اس مسئلے میں ہماری راہنمائی فرما کر ایک ایسا مستحکم جواب و فتویٰ صادر فرمائیں تاکہ اس پر تمام لوگ یکساں طور پر عمل پیرا رہیں اور اسی قول کو لے کر عمل کیا کریں اور یہ بتائیں کہ 75 منٹ کی تحديد ہر موسم میں ہے؟ یا گرمیوں میں فاصلہ اس سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ مفتی بہ قول کی نشاندبہی کیجئیے گا۔
جواب
واضح رہے کہ عشا کا وقت شفق کے غروب ہونے سے شروع ہوتا ہے، تاہم شفق سے کیا مراد ہے؟ اس میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ صاحبین کے نزدیک شفق سے مراد سرخی ہے کہ غروب کے بعد مغربی افق پر دکھائی دینے والی سُرخی جب غائب ہوجائے تو عشا کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک عشا کا وقت اُس وقت شروع ہوتا ہے جب شفقِ ابیض غائب ہوجائے یعنی مغرب کی طرف افق پر سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی ہوتی ہے اُس کے غائب ہونے کے بعد جو سفیدی پھیلتی ہے وہ سفیدی بھی ختم ہو کر مکمل اندھیرا ہو جائے۔ امام صاحب کے قول کو علماء نے راجح اور احوط قرار دیا ہے تاہم ان سے صاحبین کے قول کی طرف رجوع بھی منقول ہے۔ اس لیے صاحبین کے قول کو اوسع ہونے کے اعتبار سے مفتی بہ قرار دیا گیا ہے۔
محققین علماء ومفتیان میں سے اکثر کے ہاں شفقِ ابیض اس وقت غائب ہوتا ہے جب سورج اُفق سے اٹھارہ درجے نیچے چلا جائے۔ اِن اٹھارہ درجوں کا مجموعی وقت موسم اور علاقہ کی تبدیلی سے مختلف ہوتا رہتا ہے اس لیے منٹوں میں اس کی مقدار متعین طور پر نہیں بتائی جاسکتی۔ آئمہ مساجد اور عوام کو چاہیے کہ مستند ماہرین صحیح اصول پر جو نقشے تیار کرتے ہیں اُن کے مطابق اذان وجماعت کا وقت متعین کیا کریں اس سے پہلے نہیں تاکہ نماز جیسا اہم فریضہ بے احتیاطی سے ذمہ پر باقی نہ رہے۔ کیونکہ وقت داخل ہونے سے قبل پڑھی گئی نماز مقبول نہیں ہوتی۔
(و) وقت (المغرب منه إلى) غروب (الشفق وهو الحمرة) عندهما، وبه قالت الثلاثة وإليه رجع الإمام كما في شروح المجمع وغيرها، فكان هو المذهب۔۔۔۔ وفي الشامية: أن التفاوت بين الشفقين بثلاث درج كما بين الفجرين۔ ( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، ج:1، ص: 361)
(وهو البياض) أي الشفق هو البياض وهذا عند أبي حنيفة وهو قول أبي بكر الصديق وأنس ومعاذ بن جبل وعائشة ورواية عن ابن عباس وبه قال عمر بن عبد العزيز وكثير من السلف واختاره المبرد وثعلب اللغويان وقال أبو يوسف محمد ومن قال بقولهما الشفق الحمرة؛ لأنه المتفاهم عند أهل اللغة نقل ذلك عن الخليل والفراء والأزهري، وهو مذهب عمر وابنه وعلي وابن مسعود وقال الفراء تقول العرب على فلان ثوب مصبوغ كأنه الشفق ولنا قوله عليه الصلاة والسلام «وآخر وقت المغرب إذا اسود الأفق؛ ولأن الشفق من الرقة ومنه شفقة القلب وهي رقته ويقال ثوب شفيق إذا كان رقيقا وهو بالبياض أليق؛ لأنه أرق من الحمرة وإليه أشار عليه الصلاة والسلام بقوله وقت صلاة المغرب ما لم يسقط نور الشفق إذ النور يطلق على البياض والحديث صحيح رواه مسلم؛ ولأن العشاء تقع بمحض الليل فلا تدخل ما دام البياض باقيا؛ لأنه من أثر النهار ولهذا يخرج بطلوع البياض المعترض من الفجر؛ ولأن فيه اختلافا بين الصحابة، وكذا بين أهل اللغة فلا تخرج المغرب بالشك، وكذا لا تدخل العشاء بالشك وما روي عن الخليل أنه قال راعيت البياض بمكة شرفها الله تعالى ليلة فما ذهب إلا بعد نصف الليل محمول على بياض الجو وذلك يغيب آخر الليل، وأما بياض الشفق وهو رقيق الحمرة فلا يتأخر عنها إلا قليلا قدر ما يتأخر طلوع الحمرة عن البياض في الفجر. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، مواقيت الصلاة، ج:1، ص: 80)
قال في "الاختيار": "الشفق: البياض. . وهو مذهب أبي بكر الصدّيق ومعاذ بن جبل وعائشة رضي الله عنهم"، قلت: ورواه عبد الرزاق عن أبي هريرة وعن عمر بن عبد العزيز، ولم يروِ البيهقي (الشفق الحمرة) إلا عن ابن عمر، وأما اختياره للفتوى فبناء على ظنٍّ ضعيف وذلك أنه قال: "الشفق الحمرة، وعليه الفتوى؛ لأن في جعله اسمًا للبياض لكونه أشفق، إثبات اللغة بالقياس وأنَّه لا يجوز "، فظن أن هذا هو حجّة الإمام، وليس كذلك، إنما حجته الحديث الصحيح مع تفسير الصحابة مع موافقة أصول النظر - على ما سنذكر إن شاء الله تعالى - فكان اختيارًا مخالفًا لما هو الأصح رواية ودراية.
أما الأول فلأن رواية: "الشفق البياض"، رواية "الأصل"، وهي ظاهر المذهب عنه، ورواية: "إنه الحمرة"، رواية أسد بن عمرو،
وهي خلاف ظاهر الرواية عنه. وأما الثاني - وهو ما وعدناه -؛ فروى الترمذي عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ". . . وإنّ أول وقت العشاء حين يغيب الأُفُق. ."وغيبوبته بسقوط البياض الذي يعقب الحمرة، وإلّا كان باديًا. وأما أقوال الصحابة الموافقة لهذا الحديث فما قدّمناه، وأما موافقة أصول النظر؛ فإنه وإن روي عن ابن عمر وغيره "الشفق: الحمرة"، فقد روي ما قدمناه عن غيرهم، وإذا تعارضت الآثار لا يخرج الوقت بالشّكّ كما قاله في "الهداية" وغيرها، فثبت أن قول الإمام هو الأصح، كما اختاره النسفي رحمه الله. (التصحيح والترجيح على مختصر القدوري، كتاب الصلاة، ص:155)