بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
رغبت جماع کے بغیرعورت کوشہوت سے لگنا
سوال
مجھے میرے ہونے والے شوہر کے والدنے 2 ، سے 3 بار شہوت سے بنا کسی حائل کے چھو لیا ہے ، پہلی بار پیٹھ پر چھوا تھا ، ، اور 2 بار سینے پر بنا حائل کے چھوا ہے ، چھونے سے اُن کو شہوت پیدا ہوئی ہے ، لیکن ان کا ارادہ جماع کا نہیں تھا صرف چھونے تک کا ارادہ تھا ، جماع کرنے کا نہیں تھا ، تو کیا اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہوئی ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ کوئی شخص کسی عورت کو شہوت سے چھوتا ہے تو اس سے حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں ،ان میں سے شہوت کے ساتھ رغبت جماع کا ہونابھی ہے ،صرف شہوت کاہونا کافی نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرکوئی شخص کسی مشتہاۃ عورت کو بغیر حائل کے یا ایسے باریک حائل کے ساتھ کہ جس سے بدن کی حرارت محسوس ہوتی ہو، شہوت کے ساتھ چھوتاہے، اور اس کو انتشار بھی ہوجاتا ہے، لیکن اس عورت کے ساتھ رغبت جماع نہ ہو، تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی، کیونکہ ثبوت حرمت کے لیے شہوت کے ساتھ ساتھ اس عورت کی طرف رغبت جماع ہونا بھی ضروری ہے ۔
قال عامة العلماء: الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها، كذا في قاضي خان.( درر الحكام شرح غرر الأحكام، كتاب النكاح، نكاح مسلم ذمية عند ذميين، ج:1، ص:330 )
وجعلوا حد الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها.( المحيط البرهاني، كتاب النكاح، الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم، ج:3، ص:63 )
وجعلوا حد الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها.( النهاية في شرح الهداية، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:7، ص:30 )