بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
قتل خطا میں قاتل کو پستول دینے والے کا حکم
سوال
میرے ایک دوست کے بھائی کی شادی تھی ،جس میں میرے اس دوست نےمیری دی ہوئی پستول سے ہوائی فائرنگ کی ،لیکن اس ہوائی فائرنگ کی وجہ سے ایک آدمی کو گولی لگی اور وہ فوت ہو گیا جس کی وجہ سے قاتل پر قتلِ خطا کا کفارہ اور دیت وغیرہ لازم ہوا ،تو کیا اس قتل میں میرا دیا ہوا پستول استعمال ہونے کی وجہ سے کیا میں بھی گناہ گارہوں گا یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کے جب کسی فعل میں مباشر(براہ راست کام کرنے والا) اور مسبب(اس کام کے ہونے میں سبب بننے والا) دونوں جمع ہوجائیں ،تو اس فعل کی نسبت مباشر کی طرف کی جائے گی نہ کہ مسبب کی طرف، یعنی اس فعل سے جو تاوان ہو جائے،وہ براہ راست کام کرنے والے پر ہوگا، سبب بننے والے پر کچھ لازم نہ ہوگا۔
صورت مسئولہ میں جس کے گولی چلانے سےسے قتل ہوا ہے، قتل کا گناہ وغیرہ اسی پرلازم ہوگا،پستول دینے والے پر کوئی گناہ وغیرہ نہیں، البتہ اس سبب بننے پردل سے ندامت اورتوبہ واستغفارکرنامؤمن کی خوبی ہے۔
إذا اجتمع المباشر والمتسبب، يضاف الحكم إلى المباشر. (شرح المجلة لسليم رستم باز، المادة:90، ص:59)