بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
واقف کی اجازت کے بغیر وقف میں تصر ف کرنا
سوال
1۔گاؤں میں عرف یہ ہے کہ مسجد میں کوئی بھی اگر اچھا کا م کرنا چاہے توواقف کی اجازت کے بغیر ناممکن ہےتوکیا اس کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟وقف کے بعد واقف کا یہ کہنا جائز ہوگا کہ یہ چیز میری ہےاور میں اس کا متولی ہوں میں کام اپنے طریقے سے کروں گااوراگرلوگ واقف کی مخالفت کریں تو کیا واقف ان کے خلاف عدالت میں رجوع کرسکتاہے؟ 2۔وقف کی تخریب یا تعمیر میں لوگ رکاوٹ ڈال سکتے ہیں یا نہیں،یا ازخود تخریب یا تعمیر بغیر واقف کے کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
جاننا چاہیے کہ وقف کے مقاصد کی تکمیل کی خاطر وقف میں تصرف کرنے کا حق وقف کے متولی کو حاصل ہے چنانچہ متولی کی اجازت کے بغیر وقف میں تصرف کرنا جائز نہیں۔
صورت مسؤلہ کےمطابق 1۔ مسجد میں کوئی بھی تصرف متولی کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے نیزواقف کا یہ کہنا جائزنہیں کہ یہ چیز میری ہے کیونکہ وقف کرنے سے وہ چیز اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے البتہ اگرواقف نے وقف کی تولیت اپنے پاس رکھی ہو تواس کا یہ کہناجائز ہے کہ میں اس کا متولی ہوں۔اگر وقف کی تولیت واقف کے پاس ہواورلوگ مقاصد وقف کی تکمیل میں اس کے جائز تصرفات کی مخالفت کرتے ہوں توواقف کوان کے خلاف عدالت میں رجوع کرنا جائز ہے۔
2۔ وقف کی جائز تعمیرو تخریب میں عام لوگوں کورکاوٹ بننے کا حق نہیں ،واقف نے اگرتولیت اپنے پاس رکھی ہو تواس کو موقوفہ جگہ میں وقف کے مصالح کی حفاظت کی خاطر تعمیر یا تخریب کی گنجائش ہے۔
(جعل) الواقف (الولاية لنفسه جاز) بالإجماع، وكذا لو لم يشترط لأحد فالولاية له عند الثاني. وهو ظاهر المذهب نهر، خلافا لما نقله المصنف، ثم لوصيه إن كان وإلا فللحاكم.( رد المحتار على الدر المختار،ج:4،ص:379)
رجل بنى مسجدا وجعله لله تعالى فهو أحق الناس بمرمته وعمارته وبسط البواري والحصر والقناديل، والأذان والإقامة والإمامة إن كان أهلا لذلك فإن لم يكن فالرأي في ذلك إليه. كذا في فتاوى قاضي خان.( الفتاوى الهندية،ج:1،ص:110)