بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
وقف کا حکم
سوال
1۔وقف تام،ناقص ،عام اورخاص کیاہوتا ہے ان کا حکم بھی بیان کریں؟ 2۔ مسجد،خانقاہ،مدرسہ،تبلیغی مرکزیا کوئی بھی ادارہ ہو یہ کون سے وقف میں آتے ہیں ؟اس ترتیب سے حکم بیان کردیں؟
جواب
وقف کا حکم یہ ہے کہ وقف تام ہونے کےبعد موقوفہ چیزواقف کی ملکیت سے نکل کراللہ تعالی کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے،چنانچہ پھرنہ اس کو بیچا جا سکتاہے اورنہ ہی میراث میں منتقل کیا جاسکتاہے اور نہ ہی اس کو ہبہ کیاجاسکتاہے۔ پھراگرواقف نے موقوفہ شیء کو کسی خاص گروہ یا فرد کےساتھ خاص کیا ہوتووقف خاص کہلائے گا اوراگر جملہ مسلمانوں کی مصلحت کے خاطر وقف کیاہوتووقف عام کہلائے گا۔
2۔مسجد وقف عام میں آتا ہے کیونکہ وہاں ہرمسلمان کوفریضہ نمازادا کرنے کی اجازت ہوتی ہے البتہ مدرسہ ،خانقاہ اورتبلیغی مراکز جیسے اوقاف میں واقف کی شرائط کا اعتبار ہوگا کہ اگر واقف نے مدرسہ،خانقاہ یا تبلیغی مرکزکوکسی خاص طبقے کے لوگوں مثلاً یتیموں یا فقراء وغیرہ کی تعلیم وتربیت کے لیے وقف کیا ہوتواس صورت میں وہ وقف خاص شمار ہوگالیکن اگرجملہ مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کے لیے وقف کرچکا ہوتو پھر وقف عام میں آئے گا۔
قال في الإسعاف يجب صرف الغلة على ما شرط الواقف وفي غيره شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،ج:1،ص:123)
أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة.(رد المحتارعلى الدر المختار،کتاب الوقف، ج:6،ص: 665)
وما غرس في المساجد من الأشجار المثمرة إن غرس للسبيل وهو الوقف على العامة كان لكل من دخل المسجد من المسلمين أن يأكل منها وإن غرس للمسجد لا يجوز صرفها إلا إلى مصالح المسجد الأهم فالأهم كسائر الوقف وكذا إن لم يعلم غرض الغارس.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،ج:5،ص:221)