بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
نرینہ اولاد کے حصول کے لیے بچے کا نام 'محمد' رکھنا
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللّٰه وبرکاتہ جی ہمارے معاشرے میں یہ بات مشہور ہے کہ جس شخص کے نرینہ اولاد نہ ہو تو وہ اگر پیدا ہونے والے بچے پر محمد نام رکھنے کا ارادہ کر لیں تو اللّٰه تعالیٰ اس کو نرینہ اولاد عطاء کرتے ہیں یہ کہیں کتابوں میں موجود ہے یا نہیں ؟
جواب
"محمد" حضورِ اکرم ﷺ کا اسم گرامی ہے، جو اللہ تعالی نے آپ ﷺ کے لیے منتخب فرمایا۔ نیز آپ ﷺ نے اپنے نام پر نام رکھنے کی ترغیب بھی دی ہے، اسی وجہ سے سلفِ صالحین میں سے محدثین اورفقہاء میں سے بہت سوں کا یہ نام منقول ہے، لہذا اپنے بچے کانام "محمد" رکھنا افضل ومستحسن ہونے کے ساتھ ساتھ باعثِ برکت ہے۔البتہ اس بنیاد پر پیدا ہونے والے بچے کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کرنا کہ وہ خواہ مخواہ نرینہ ہوگا کیونکہ اس نام کی وجہ سے اللہ تعالٰی ضرور نرینہ اولاد عطا کرتا ہے ،یہ عقیدہ رکھنا ازروئےشریعت بے بنیادہے۔
عن جابر رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي). )صحيح البخاري،باب کنیةالنبي صلی الله علیه وسلم ،ج: 3،ص:1301،رقم الحدیث:3345)