بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
نوسالہ بچی کا مرد کے ساتھ صف میں کھڑا ہونا
سوال
میں اپنی بیوی اور بیٹی (جس کی عمر 9 سال سے تھوڑا اوپر ہے)کے ساتھ عمرہ کے لیے جانا چاہتا ہوں، میرا ارادہ ہے کہ حرم شریف اور مدینہ منورہ میں اپنی بیٹی کو دوران جماعت اپنے ساتھ کھڑی کر کے نماز کی ادائیگی کر لیا کروں، تو کیا اس طرح کرنے سے میری نمازاداہوگی یانہیں؟
جواب
واضح رہےکہ اگرکوئی بالغ لڑکی نمازمیں کسی مرد کے برابراس طرح کھڑی ہو جائے کہ کم از کم ایک رکن (تین تسبیح پڑھنے کے بقدر) کی حالت میں اس کے ٹخنے اور پنڈلیاں مرد کے ٹخنوں اور پنڈلیوں کے برابر ہوں اور وہ دونوں ایک ہی امام کی اقتدا میں ایک ہی نماز ادا کر رہے ہوں، تو مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی، البتہ اگر کوئی بچی مردوں کے صف کے برابر کھڑی ہو جائےاور وہ نہ بالغ ہو اور نہ ہی قریب البلوغ ہو، تو اس سے نمازپرکوئی اثر نہیں پڑتا۔
صورت مسئولہ میں، چونکہ بیٹی کی عمرنو(9) سال ہے اوراس عمر میں بلوغ کا امکان ہوتا ہے، اس لیے اگر وہ اس عمر میں بالغہ ہو چکی ہویا قریب البلوغ ہو، تو والد کے ساتھ صف میں کھڑی ہونے کی صورت میں والد کی نماز فاسد ہو جائے گی، لیکن اگروہ نا بالغہ ہو اور قریب البلوغ بھی نہ ہو، تو والد کے ساتھ صف میں کھڑی ہوسکتی ہے۔
وإن حاذته مشتهاة في صلاة مطلقة مشتركة تحريمة وأداء في مكان متحدبلاحائل فسدت صلاته وفي السراج الوهاج:ولو قامت المرأة وسط الصف فإنها تفسد صلاة ثلاثة واحد عن يمينها،وواحد عن يسارها،وواحد خلفها بحذائها واختلفوا في حدالمشتهاة وصحح الشارح وغيره أنه لااعتباربالسن من السبع على ما قيل،أوالتسع على ما قيل،وإنماالمعتبرأن تصلح للجماع بأن تكون ضخمة عبلة،والعبلة المرأة التامة الخلق. (البحرالرائق، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:622)