بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

امام بخاریؒ کا رسول اللہ ﷺکے بعد واقع شدہ واقعات کو ذکر کرنے کی حیثیت


سوال

کیا حضور اکرمﷺ کے انتقال پر ملال کے بعد پیش آمدہ وہ واقعات جنہیں کسی حدیث صحیح کے ضمن میں امام بخاریؒ نقل فرماتے ہیں انہیں بھی صحت کا وہی درجہ حاصل ہوگا جو کہ اس حدیث کو حاصل ہے یا نہیں؟مثلا حدیث رسول اللہ ﷺ "ما ترکنا فهوصدقة" کے ضمن میں موجود فدک اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ناراضگی کے واقعہ کو بھی حدیث رسول ﷺ کی طرح صحیح تسلیم کرنا ہے یا اس پر کلام کی گنجائش ہے؟

جواب

احادیث مبارکہ یا کسی صحابی کے اقوال و واقعات کے نقل کرنے میں سند کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ الفاظ ِ حدیث یا صحابہ کے واقعات جن واسطوں سے امت تک پہنچتے ہیں وہ واسطے سند کہلاتے ہیں۔علم حدیث میں صحت و ضعف کا دارمدار سند میں مذکور راویوں پر ہوتا ہے۔ مشہور حافظ علامہ ابو سعد السمعانی رحمہ اللہ"أدب الإملاء والاستملاء" میں لکھتے ہیں:"آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات روایت کرنا ضروری ہے، اور ان کی صحت کی معرفت صحیح سند سے ہوسکتی ہے، اور سند کا صحیح ہونا اس طرح معلوم ہوگا کہ اس کے تمام راوی ثقہ اور عادل ہوں۔"

علامہ عبدالحی کتانیؒ  اپنی کتاب"فہرس الفہارس " میں نقل کرتے ہیں:"اللہ تعالیٰ نے اسناد کی خصوصیت سے صرف اس امت کو نوازا ہے، لہٰذا دین کی باتیں نقل کرنے میں یہود اور نصاریٰ کی روش پر نہ چلو کہ بغیر سند کے دینی باتیں سنانے لگو، ورنہ تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی یہ نعمت خود اپنے ہاتھوں گنوا بیٹھو گے۔"

 اسناد کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ جن افراد کے ناموں کا مجموعہ ہے، ان کے واسطے سے ہمیں احادیث، تفسیر، اور شریعت کے دیگر مآخذ پہنچے ہیں۔ تو گویا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات، صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور علمائے امت کے تفسیری اقوال کی صحت وعدمِ صحت کا مدار سند پر ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ دین سند پر موقوف ہے، اسی لیے عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ  نے فرمایا: "سند بیان کرنے کا عمل دین کا حصہ ہے۔"  امام حاکم ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ میں عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا مذکورہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں"اگر سند نہ ہوتی، اور سند کے سلسلے میں محدثین کا مذکورہ سخت طرزِ عمل نہ ہوتا تو اسلام کی علامت مٹ چکی ہوتی، جس کے نتیجے میں ملحدین اور اہلِ بدعت جھوٹی حدیثیں گھڑ کر اور اُلٹی سندیں پیش کرکے دین میں گھس جاتے، کیونکہ احادیث کو اسناد سے بے نیاز کردیا جائے تو ان کی بنیاد ختم ہوکر ناقص رہ جائے گی۔"

بہرحال محدثین نے سند کو بنیاد بنا کر احادیث اور واقعات نقل فرمائے ہیں اور فن اسماءالرجال کے اصول و ضوابط کی روشنی میں ان سندوں کو پرکھا ہے اور ان پر صحت و ضعف کے احکام لگائے ہیں۔ امام بخاریؒ نے اپنی کتاب"صحیح بخاری "میں احادیث اور واقعات کو باقاعدہ سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔اور اس کا اہتمام کیا ہے کہ صرف صحیح روایات کو ہی درج کیا جائے اس لیے جب امام بخاریؒ کسی روایت یا واقعہ کو سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں تو وہ ان کی محققانہ اعلٰی معیار پر پرکھی گئی روایت ہوتی ہے،پھر چاہے حدیث مرفوع ہو یا حدیث موقوف ہو ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے اس کا تعلق ہو یا بعد کے زمانے سے۔

جہاں تک واقعہ فدک کی روایت ہےتو اس کی تفصیل یہ ہے کہ باغ فدک کھجوروں کا باغ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور مال  فیئ ملا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات تک اس کو اپنی تحویل میں  رکھا تھا، اس سے اپنے اہل وعیال کو  سال بھر کا نفقہ دے دیا کرتے تھے اور باقی جو کچھ بچتاتھا وہ فقراءو مساکین پر صدقہ کردیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی  عنہ اس کے متولی ہوئے اور حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اور خلیفہ برحق ہونے کی حیثیت سے آپ کی ہی طرح اس کی آمدنی خرچ کرتے رہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی عمل کیا، البتہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کو منتظم تجویز فرمادیا تھا،پھر جب  حضرت علی رضی االلہ  تعالی عنہ خلیفہ ہوئےتو آپ  نے بھی اپنے دور خلافت میں  اس باغ  کا وہی انتظام رکھا جو خلفاء سابقین کے زمانہ سے چلا آ رہا تھا  اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل وعیال میں بطورِ وراثت تقسیم نہیں کیا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد  جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس باغ کامطالبہ  بطور میراث کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ کہہ کر منع  کردیا  کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا "ہماری میراث تقسیم نہیں ہوتی، بلکہ ہم (انبیاء)جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے"  البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس  مال میں سے اپنی ضرورت پوری کرےگی ،لہٰذا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک  ارشاد کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغ فدک وراثت میں نہیں دی ،البتہ جس حال میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے عہد میں تھا وہی طرز عمل اختیار کیا یعنی اس سے آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ضروریات  زندگی کے بقدر خرچہ دیتے تھے اور باقی صدقہ کر دیا جاتا تھا ۔

رہا یہ اعتراض کہ یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شان پر  چوٹ پڑتی ہے کیونکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مرتے دم تک ابوبکر رضی اللہ عنہ سےنہ گفتگو کی اور نہ ہی ملاقات کی ۔

 تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مرتے دم تک گفتگو نہیں کی اس روایت میں اختصار ہے،چنانچہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وراثت کے مسئلے کے لیے گفتگو نہ فرمائی، لیکن بات نہ کرنے کی کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔

علامہ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ: "حضرت سیدہ فاطمۃالزہرا رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ترک کی اور مرتے دم تک ان سے گفتگو نہ کی"معمر سے بطریق عمر بن شبۃیہ روایت ہے کہ جس روایت میں یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے گفتگو نہ کی اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے وراثت کے مال کے بارے میں گفتگو نہ کی۔

یعنی وراثت کے مسئلے پر گفتگو نہ کی لہذا اگر کوئی ان باتوں سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطلق ناراضگی مرادلے گا تو یہ غلط ہے۔کیونکہ دوسری روایات اس بات پر شاہد ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو بھی فرمائی اور ان سے ملاقات بھی کی ۔

امام بیہقی نے روایت نقل کی ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور آنے کی اجازت طلب کی تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فاطمہ ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے ہیں آپ سے ملنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا آپ ان سے ملاقات کی اجازت دیں گے ؟ توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ،پس وہ تشریف لائے اور ان کو راضی کیا ۔ (السنن الكبرى للبيهقي،كتاب قسم الفيئ والغنيمة،باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء...،رقم الحديث:12735)

فدک کے حوالے سے جو روایت امام بخاریؒ نے نقل کی ہے وہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔اوراس معنی پر مشتمل احادیث مختلف طرق کے ساتھ امام احمدؒ،امام مسلم،امام ابو داؤد،ابوبكر عبد الرزاق ؒ اور امام بیہقیؒ وغیرہ نے بھی روایت کی ہیں۔اور کثرت طرق بھی صحت حدیث پر دلیل ہے۔

 

والمراد بالطّرق:الأسانيد،والإسناد:‌حكاية ‌طريق ‌المتن.(نزهة النظر في توضيح نحبة الفكر،أقسام الحديث باعتبار طرقه،ص:85)

فقال:ابن إحدى عشرة،فلما طعنت في ست عشرة سنة حفظت كتب ابن المبارك ووكيع،وعرفت كلام هؤلاء،ثم خرجت مع أمي وأخي أحمد إلى مكة،فلما حججت،رجع أخي وتخلفت بها في طلب الحديث،فلمما طعنت في ثماني عشرة جعلت أصنف فضائل الصحابة والتابعين وأقاويلهم وذلك أيام عبيد الله بن موسى،وصنفت كتاب"التأريخ"إذ ذاك عند قبر الرسول صلى الله عليه وسلم في الليالي المقمرة.وقال:قل اسم في"التأريخ"إلا وله عندي قصة إلا إني كرهت تطويل الكتاب. (تهذيب الكمال،باب الميم،من اسمه محمد،محمد بن أسعد التغلبي أبو سعيد المصيصي كوفي الأصل،ج24،ص:439،440)

فأقام الله طائفة كثيرة من هذه الأمة للذب عن سنة نبيه صلّى الله عليه وسلّم،فتكلموا في الرواة على قصد النصيحة،ولم يعد ذلك من الغيبة المذمومة،بل كان ذلك واجبا عليهم وجوب كفاية.ثم ألف الحفاظ في أسماء المجروحين كتبا كثيرة،كل منهم على مبلغ علمه،ومقدار ما وصل إليه اجتهاده. (لسان الميزان لابن حجر،تقدمة المؤلف،ج:1،ص:191)

‌وألفاظ ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم ‌لا ‌بد لها من النقل ولا تعرف صحتها إلا بالإسناد الصحيح والصحة في الإسناد لا تعرف إلا برواية الثقة عن الثقة والعدل عن العدل.(أدب الإملاء والاستملاء،ص:4)

والله ‌أكرم ‌هذه ‌الأمة ‌بالاسناد، لم يعطه أحد غيرها، فاحذروا أن تسلكوا مسلك اليهود والنصارى فتحدثوا بغير إسناد فتكونوا سالبين نعمة الله عن أنفسكم.(فهرس الفهارس،حرف الياء،ج:1،ص:80)

وحدثني محمد بن عبد الله بن قهزاذ من أهل مرو ، قال: سمعت عبدان بن عثمان يقول: سمعت عبد الله بن المبارك يقول: « الإسناد من الدين، ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء».(صحيح مسلم،مقدمة،باب بيان أن الإسناد من الدين،ج:1،ص:12)

‌قال ‌أبو ‌عبد ‌الله: ‌فلولا ‌الإسناد وطلب هذه الطائفة له وكثرة مواظبتهم على حفظه لدرس منار الإسلام، ولتمكن أهل الإلحاد والبدع فيه بوضع الأحاديث، وقلب الأسانيد، فإن الأخبار إذا تعرت عن وجود الأسانيد فيها كانت بترا ".(معرفة علوم الحديث للحاكم، ذكر أول نوع من أنواع علم الحديث قال أبو عبد الله: النوع الأول من هذه العلوم معرفة عالي الإسناد،ص:6)

عن ابن شهاب، قال: أخبرني عروة بن الزبير، أن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أخبرته، أن فاطمة - عليها السلام - ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، سألت أبا بكر الصديق بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، أن يقسم لها ميراثها، مما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم مما أفاء الله عليه،فقال لها أبو بكر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا نورث، ما تركنا صدقة. فغضبت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فهجرت أبا بكر، فلم تزل مهاجرته حتى توفيت، وعاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة أشهر، قالت: وكانت فاطمة تسأل أبا بكر نصيبها مما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من خيبر وفدك، وصدقته بالمدينة، فأبى أبو بكر عليها ذلك وقال: لست تاركا شيئا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعمل به إلا عملت به، فإني أخشى إن تركت شيئا من أمره أن أزيغ. فأما صدقته بالمدينة فدفعها عمر إلى علي وعباس، وأما خيبر وفدك فأمسكها عمر وقال: هما صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم، كانتا لحقوقه التي تعروه ونوائبه، وأمرهما إلى من ولي الأمر، قال: فهما على ذلك إلى اليوم. (الصحيح للبخاري،كتاب فرض الخمس،رقم الحديث3092)

عن الزهري، قال: حدثني عروة بن الزبير، عن عائشة، أن فاطمة، عليها السلام، أرسلت إلى أبي بكر تسأله ميراثها من النبي صلى الله عليه وسلم فيما أفاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم، تطلب صدقة النبي صلى الله عليه وسلم التي بالمدينة وفدك، وما بقي من خمس خيبر.....فقال أبو بكر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «لا نورث ما تركنا فهو صدقة، إنما يأكل آل محمد من هذا المال، يعني مال الله، ليس لهم أن يزيدوا على المأكل ، وإني والله لا أغير شيئا من صدقات النبي صلى الله عليه وسلم التي كانت عليها في عهد النبي صلى الله عليه وسلم، ولأعملن فيها بما عمل فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم۔(الصحيح للبخاري،باب مناقب قرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ومنقبة فاطمة عليها السلام بنت النبي صلى الله عليه وسلم ،رقم الحديث:3711)

حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا جرير، عن المغيرة، قال: جمع عمر بن عبد العزيز بني مروان حين استخلف، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كانت له فدك، فكان ينفق منها ويعود منها على صغير بني هاشم، ويزوج منها أيمهم، سوإن فاطمة سألته أن يجعلها لها فأبى» ، فكانت كذلك في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى مضى لسبيله، فلما أن ولي أبو بكر رضي الله عنه، عمل فيها بما عمل النبي صلى الله عليه وسلم، في حياته حتى مضى لسبيله، فلما أن ولي عمر عمل فيها بمثل ما عملا حتى مضى لسبيله، ثم أقطعها مروان، ثم صارت لعمر بن عبد العزيز، قال عمر يعني ابن عبد العزيز: فرأيت أمرا منعه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة عليها السلام، ليس لي بحق، وأنا أشهدكم أني قد رددتها على ما كانت يعني على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم.(سنن أبي داود،باب في صفايا رسول الله صلى الله عليه وسلم،رقم الحديث:2972)

عن عائشة أن فاطمة والعباس أتيا أبا بكر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهما حينئذ يطلبان أرضه من ‌فدك، وسهمه من خيبر، فقال لهما أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا نورث، ما تركنا صدقة، إنما يأكل آل محمد صلى الله عليه وسلم من هذا المال"، وإني والله لا أدع أمرا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه إلا صنعته، قال: فهجرته فاطمة، فلم تكلمه في ذلك حتى ماتت،فدفنها علي ليلا،ولم يؤذن بها أبا بكر،قالت عائشة:وكان لعلي من الناس حياة فاطمة حبوة،فلما توفيت فاطمة انصرفت وجوه الناس عنه،فمكثت فاطمة ستة أشهر بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم توفيت.(مصنف عبد الرزاق،كتاب المغازي،خصومة علي والعباس،رقم الحديث:10640،وأخرجه الإمام أحمد في مسنده،مسند أبي بكر الصديق،رقم الحديث:9،وکذا أخرجه الإمام مسلم في صحيحه،كتاب الجهاد والسير، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لا نورث ما تركنا فهو صدقة،رقم الحديث:1759(

فلما ولي معاوية الخلافة أقطعها مروان بن الحكم، فوهبها مروان ابنيه عبد الملك وعبد العزيز، ثم صارت لعمر بن عبد العزيز، وللوليد وسليمان ابني عبد الملك بن مروان، فلما ولي الوليد الخلافة وهب نصيبه عمر بن عبد العزيز، ثم ولي سليمان الخلافة، فوهب نصيبه منها أيضا عمر بن عبد العزيز، فلما ولي عمر بن عبد العزيز الخلافة خطب الناس، وأعلمهم أمر فدك، وأنه قد ردها إلى ما كانت عليه مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان وعلي، فوليها أولاد فاطمة بنت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ثم أخذت منهم.فلما كانت سنة عشر ومائتين ردها المأمون إليهم. ( الكامل في التاريخ،لإبن الأثير،ذكر فدك،ج:2،ص:204)

رواية معمر فهجرته فاطمة فلم تكلمه حتى ماتت"ووقع عند عمر بن شبة من وجه آخر عن معمر ‌فلم ‌تكلمه ‌في ‌ذلك ‌المال وكذا نقل الترمذي عن بعض مشايخه أن معنى قول فاطمة لأبي بكر وعمر لا أكلمكما أي في هذا الميراث.(فتح الباري،كتاب الجهاد،قوله:بسم الله الرحمن الرحيم كتاب فرض الخمس،ج:6،ص:202)

عن الشعبي قال: لما ‌مرضت ‌فاطمة رضي الله عنها أتاها أبو بكر الصديق رضي الله عنه فاستأذن عليها، فقال علي رضي الله عنه: يا فاطمة، هذا أبو بكر يستأذن عليك، فقالت: أتحب أن آذن له؟ قال:نعم،فأذنت له،فدخل عليها يترضاها وقال: " والله ما تركت الدار والمال والأهل والعشيرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتكم أهل البيت "، ثم ترضاها حتى رضيت هذا مرسل حسن بإسناد صحيح.(السنن الكبرى للبيهقي،كتاب قسم الفيئ والغنيمة،باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء...،رقم الحديث:12735)


فتویٰ نمبر : 6433/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور