بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
گھریلوناچاقی کی وجہ سے بیوی کو طلاق دینا
سوال
میری شادی کو 11 سال ہو چکے ہیں مگر سکون نہیں ملا۔ بیوی ہر بات پر جھگڑا کرتی ہے، اپنی بہن اور بہنوئی کی باتوں میں آ کر گھر چھوڑ جاتی ہے۔ میں نے اسے الگ گھر بنا کر دیا مگر پھر بھی مسئلے ختم نہیں ہوئے۔ اب وہ بچوں سمیت میکے چلی گئی ہے اور واپس آنے کو تیار نہیں،اب میں اس کو طلاق دینا چاہتا ہوں شرعی رہنمائی فرمائے۔
جواب
واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان گھریلوں تنازعات کو گفت وشنید سے حل کرکے ازدواجی زندگی کو برقراررکھنے اور بیوی کو بہتر طریقے سے سمجھانے کی حتی الامکان کوشش کر نی چاہیے ،تا ہم اگر کسی طرح حل نہ نکلے تو پھر طلاق دینے کی گنجائش ہے ۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی بیوی نافرمان ہو اور شوہر اس کی اصلاح سے مایوس ہو کر اسےطلاق دینا چاہے تو طریقہ یہ ہے کہ اس کو ایسے طہر (پاکی کے ایام) میں ایک طلاق رجعی دیدے جس میں اس کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو اور پھر تین ماہواری گزرنے تک ویسے چھوڑدے اس سے نکاح ختم ہوجائےگا اور آئندہ باہم رضامندی سے نکاح کا راستہ بھی کھلا رہے گا ۔
(أما) الطلاق السني في العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها والحسن أن يطلقها واحدة في طهر لم يجامعها فيه ثم في طهر آخر أخرى ثم في طهر آخر أخرى كذا في محيط السرخسي۔( الفتاوى الهنديةكتاب الطلاق،الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه،الطلاق السني،ج:1،ص:348)