بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
زکوٰۃ سے بچنے کے لئے اپنا مال کسی کو دینا
سوال
اگر کوئی شخص 4 سے 5 لاکھ روپے کا مالک ہو اور وہ اس کو کسی اور کے پاس رکھواتا ہو تاکہ اس کو زکوٰۃادا کرنی نہ پڑے اور دوسرےسے زکوٰۃوصول کرے،توکیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنا مال کسی کے پاس بطور امانت رکھوائے،توامانت رکھوانے والے کی ملکیت اس مال سے ختم نہیں ہوتی،لہذا اس پرزکوٰۃفرض ہوگی ۔
صورت مسؤلہ کے مطابق جوشخص چارپانچ لاکھ روپے کا مالک ہو،تووہ صاحب نصاب ہے سال گزرنے سے اس پرزکوٰۃ واجب ہوگی ایسے شخص کے لئے کسی او رسےزکوٰۃوصول کرنا جائز نہیں نیز اگروہ اپنا مال کسی کے پاس امانتاًرکھوادے تو اس سےوہ مال اس کی ملکیت سے نہیں نکلتا لہذا تب بھی صاحب نصاب شمارہوگا اوراس کے ذمےزکوۃ ادا کرنا فرض ہو گا۔
لأن يد المودع كيد المودع ألا ترى أن هلاكها في يد المودع كهلاكها في يد المودع.(المبسوط للسرخسي،كتاب الوديعة، باب الصرف في الوديعة ،ج:14، ص:53)
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة.( الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:189)