بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تیرہ سال کےبچے کےساتھ عمرے کا سفر کرنا


سوال

ایک عورت عمرہ ادا کرناچاہتی ہےاس کے ساتھ تیرہ سال  کا بیٹاہے،توکیایہ عمرہ اداکرسکتی ہے؟

جواب

عورت کے لیے محرم کے بغیر شرعی سفر(اڑتالیس میل یا اٹھہترکلومیٹردور سفر) کرنا جائز نہیں۔چاہےوہ حج یاعمرے کا سفرکیوں نہ ہو ۔نیزایسا  بچہ جو بالغ ہویا قریب البلوغ(مراہق) ہو ، جسکی عمر کم ازکم بار ہ یا تیرہ سال ہو ،تووہ سفر کے لیے  محرم شمار ہوگا،اورعورت کے لیے اس کے ساتھ سفر جائزہوگا ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرعورت کے ساتھ عمرہ کے سفرمیں تیرہ سال کا بیٹا   ہو، تو وہ اس کے لیے محرم شمار ہوکر اس کےساتھ  عمرہ کا سفرجائز ہے۔

 

عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا ‌يحل ‌لامرأة، ‌تؤمن ‌بالله ‌واليوم ‌الآخر، ‌تسافر ‌مسيرة ‌ثلاث ‌ليال، إلا ومعها ذو محرم". (صحيح مسلم، كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، رقم الحديث:1338، ج:2، ص:975)

وفي الفتاوى في باب الغزاة: ‌المرأة ‌قبل ‌أن ‌تقبض ‌مهرها ‌لها ‌أن ‌تخرج في حوائجها وتزور الأقارب بغير إذن الزوج فإن أعطاها المهر ليس لها الخروج إلا بإذن الزوج، ولا تسافر مع عبدها خصيا كان أو فحلا، وكذا أبوها المجوسي، والمحرم غير المراهق بخلاف المراهق وحده ثلاثة عشر أو اثنا عشر، ولا تكون المرأة محرما لامرأة. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الطلاق،باب النفقة، ج:3، ص:58) ۔


فتویٰ نمبر : 10714/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور