بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
قبضہ سے پہلے سونے کو منافع پر بیچنا
سوال
زید نے باسط سے 20 لاکھ کا سونا صبح کے وقت خریدا اور باسط سے کہا کہ شام کے وقت پیسے دے کر سونا لے لوں گا۔ لیکن شام تک سونے کی قیمت بڑھ کر 20 لاکھ 70 ہزار ہو گئی، تو زید نے باسط سے کہا کہ میں یہ سونا بیچ دیتا ہوں، آپ منافع کے طور پر 70 ہزار روپے مجھے دے دیں۔ اس سارے معاملے میں پیسے نہیں دئیے گئے ، لیکن منافع کی صورت میں پیسےلیے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنا ٹھیک ہے یا غلط؟
جواب
واضح رہے کہ سونے کا کرنسی کے ساتھ تبادلہ نقد اور ادھار دونوں طرح جائز ہے اس لئے کہ موجودہ دور میں کرنسی نوٹ ثمن عرفی کی وجہ سے الگ جنس شمار کیا جاتا ہے بشرطیکہ مجلس میں احد البدلین میں سے کسی ایک پر قبضہ کیا جائے ،نیز قبضہ سے پہلے کوئی چیز بيچنا يا اس پر نفع لينا جائز نہیں ۔
صورت مسؤلہ کے مطابق مجلس عقد میں کرنسی اور سونے میں سے ایک پر بھی قبضہ نہیں کیا گیا ہے تو سونا اور پیسے دونوں قرض ہوئے اس وجہ سے یہ بیع نا جائز ہے رسول ﷺ نے ایسی بیع سے منع فرمایا ہے، اور جب بیع ناجائز ہے تو اس کے نتیجے میں زید نے جو 70ہزار روپے لیے ہیں یہ بھی اس کے لئے جا ئز نہیں ۔
عن ابن عمر" أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الكالئ بالكالئ ".(السنن الكبرى للبيهقي،كتاب البيوع،باب ما جاء في النهي عن بيع الدين بالدين،رقم الحديث:10536ج:4،ص:573)
وذكر في الإملاء عن محمد لو اشترى مائة فلس بدرهم على أنهما بالخيار، وتفرقا بعد القبض فالبيع باطل؛ لأن العقد لا يتم مع اشتراط الخيار فكأنهما تفرقا قبل التقابض. (المبسوط للسرخسي، کتاب الصرف ،باب البیع بالفلوس،ج:14، ص:24)
وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ۔ ۔ ۔ ۔ وإنما يجب التقابض في الصرف بمقتضي اسم العقد وبيع الفلوس بالدراهم ليس بصرف وكذلك لو افترقا بعد قبض الفلوس قبل قبض الدراهم ۔ ( المبسوط للسرخسي،كتاب الصرف، باب البيع بالفلوس،ج:14،ص: 24)
لم يشترط في بيع الفلوس بالدراهم أو بالدنانير قبض البدلين قبل الافتراق، ويكتفى بقبض أحد البدلين. (الفتاوى الهنديه، كتاب الصرف، الفصل الثالث في بيع الفلوس، ج:3، ص: 217)
فنقول: من حکم المبیع إذا کان منقولاً أن لایجوز بیعه قبل القبض إلى أن قال: وأما إذا تصرف فیه مع بائعه، فإن باعه منه لم یجز بیعه أصلاً قبل القبض. (الفتاویٰ الهندیة:الفصل الثالث في معرفة المبیع والثمن والتصرف، ج:3،ص:13)