بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
امام بخاریؒ کے روات پر کلام کرنا
سوال
صحیح بخاری کے وہ روات جن سے امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے ان پر کلام و جرح کی جاسکتی ہے یا نہیں؟
جواب
قرآن وحدیث ہی وہ دو بنیادی اساس ہیں جن پر شریعت اسلامی کی مکمل عمارت کھڑی ہے، حدیث کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس امت میں سے مخصوص بندوں کو چنا اوران کے ذریعے حدیث کی حفاظت کی گئی ، ان میں فقہاء ، محدثین اوراصحاب ِ الجرح والتعدیل شامل ہیں۔فقہاء نے حدیث کے معانی محفوظ کیے، محدثین نے حدیث کے الفاظ کی حفاظت کی اوراصحاب الجرح والتعدیل نے روات کی چھان بین کرکے احادیث کی قوت وضعف کا پتہ لگایا۔الفاظ ِ حدیث جن واسطوں سے امت تک پہنچتے ہیں وہ واسطے سند کہلاتے ہیں، ان کی چھان بین اورقوت و ضعف سے اسماء الرجال کے فن میں بحث ہوتی ہے۔تاریخ میں ایسے کئی مایہ ناز محدثین گزرے ہیں جو حدیث کے ساتھ ساتھ اسماء الرجال کے بھی امام تھے ، ان میں امام بخاریؒ کی نمایاں حیثیت تھی۔انہوں نے جس طرح حدیث میں "صحیح بخاری" تصنیف فرمائی اسی طرح اسماء الرجال میں بھی ایک بہترین کتاب"التاریخ الکبیر" تصنیف فرمائی ہے۔
امام بخاری ؒ کو علم حدیث کی طرح فن اسماء الرجال میں بھی یدطولیٰ حاصل تھا ۔ وہ خود فرماتے ہیں تاریخ میں ایسی کوئی قابلِ ذکر شخصیت نہیں گزری جس سے متعلق میرے پاس کوئی معلومات نہ ہوں، لیکن میں نے اپنی کتاب میں طوالت پسند نہیں کی، اس لئے اسے بہت مختصرانداز میں تصنیف کیا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "صحیح" کو مرتب کرتے وقت بڑی محنت، دقت، اور دیانت سے کام لیا۔ اس کی تیاری کے دوران انہوں نے کئی باتوں کا خاص خیال رکھا، فرماتے ہیں کہ: "میں نے اس کتاب میں صرف وہی حدیثیں شامل کی ہیں جو صحیح ہوں، اور میں نے بہت سی صحیح حدیثیں بھی چھوڑ دی ہیں۔"اسی طرح آپؒ ہر حدیث کو لکھنے سے پہلے غسل کرتے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے مدد مانگتے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر اخلاص اور خوفِ خدا کے ساتھ کام کرتے تھے۔نیزوہ صرف ان حدیثوں کو قبول کرتے تھے جن کے راوی قابلِ اعتماد اور سچے ہوں،عدل و ضبط کے معیار پر پورےاترتے ہوں، اور راوی و مروی عنہ کی ملاقات اور سماع ثابت ہو۔صرف یہ کافی نہیں کہ راویوں کا زمانہ ایک ہو، بلکہ امام بخاری اس بات کا بھی ثبوت چاہتے تھے کہ انہوں نے واقعی ایک دوسرے سے ملاقات کی ہے اور براہِ راست حدیث سنی ہے۔ان تمام شرائط کی رعایت اور اس محنت کی بنا پر صحیح بخاری ایک بے مثال کتاب بن گئی، جس کی صحت اور عظمت پر پوری امت کے علماء کا اتفاق ہوا۔اور اسی لیے اسے قرآن کے بعد سب سے اصح کتاب کہا گیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے جب یہ کتاب مکمل کرلی تو اس وقت کے تین ایسے اماموں کے سامنےاپنی کتاب کو پیش کیا جو علم حدیث کے جملہ فنون کے ماہر تھے، ان میں سے ایک امام احمدؒ ہیں جو دس لاکھ احادیث کے حافظ ، نیز جرح و تعدیل اور علل کے ماہر تھے، دوسرے یحیٰ بن معینؒ ہیں جو جرح و تعدیل کے امام تھے، تیسرے علی بن المدینیؒ ہیں جو علل حدیث کے امام تھے رحمہم اللہ جمیعا۔
ان تینوں ائمہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب صحیح بخاری کو مکمل طور پرہر لحاظ سے پرکھا اور اس کتاب میں موجود تمام احادیث کی صحت سے اتفاق کیا سوائے چار احادیث کے۔
نیز بعد میں دیگر ماہر فن محدثین نے بھی آنکھیں بند کرکےاس پر اعتماد نہیں کیا بلکہ وہ حضرات احادیث رسول ﷺکے معاملے میں اس قدر محتاط تھے کہ امام بخاریؒ کی تصحیح شدہ احادیث کو بھی تحقیق کی بھٹی میں ڈالتے رہے، ایک ایک حدیث، بلکہ حدیث کے ایک ایک جملے اور ایک ایک حرف کی تحقیق کی، نیز سند کے ہر راوی کے حالات کو کھنگال ڈالا اور تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ صحیح بخاری کی روایات صحت کے معیار پر پورا اترتی ہیں ۔اگرچہ بعض محدثین نے امام بخاری کی تصحیح شدہ بعض احادیث سے اختلاف بھی کیا،لیکن دوسرے محدثین نے علوم حدیث کے قواعد کی روشنی میں امام بخاری کے قول کو ہی راجح قرار دیا۔
درجہ بالا تفصیل کے مطابق جب امام بخاریؒ نے خوداپنی کتاب میں حدیث کو شامل کرنے سے پہلے انتہائی تحقیق،دیانت اور اخلاص سے کام لیا،اور وقت کے بڑے محدثین نے اس کی صحت پر مہرِ تصدیق ثبت کی،اور اللہ تعالٰی نے اسے تلقی بالقبول کا مقام بخشا، تو اب صدیاں گزرنے کے بعدکسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ امام بخاری کے رواۃ یا احادیث پر خواہ مخواہ اعتراض کرے،یہ دین کی خدمت نہیں بلکہ فتنہ پردازی ہوگی۔
فقال:ابن إحدى عشرة،فلما طعنت في ست عشرة سنة حفظت كتب ابن المبارك ووكيع،وعرفت كلام هؤلاء،ثم خرجت مع أمي وأخي أحمد إلى مكة،فلما حججت،رجع أخي وتخلفت بها في طلب الحديث،فلمما طعنت في ثماني عشرة جعلت أصنف فضائل الصحابة والتابعين وأقاويلهم وذلك أيام عبيد الله بن موسى،وصنفت كتاب"التأريخ"إذ ذاك عند قبر الرسول صلى الله عليه وسلم في الليالي المقمرة.وقال:قل اسم في"التأريخ"إلا وله عندي قصة إلا إني كرهت تطويل الكتاب. (تهذيب الكمال،باب الميم،من اسمه محمد،محمد بن أسعد التغلبي أبو سعيد المصيصي كوفي الأصل،ج24،ص:439،440)
فأقام الله طائفة كثيرة من هذه الأمة للذب عن سنة نبيه صلّى الله عليه وسلّم،فتكلموا في الرواة على قصد النصيحة،ولم يعد ذلك من الغيبة المذمومة،بل كان ذلك واجبا عليهم وجوب كفاية.ثم ألف الحفاظ في أسماء المجروحين كتبا كثيرة،كل منهم على مبلغ علمه،ومقدار ما وصل إليه اجتهاده. (لسان الميزان لابن حجر،تقدمة المؤلف،ج:1،ص:191)
وقال أبو زرعة الرازي:"كان أحمد يحفظ ألف ألف حديث".(تهذيب التهذيب،حرف الألف،من اسمه محمد، ج:1،ص:74)
وقال محمد بن علي بن راشد الطبري،عن محمد بن نصرالطبري:دخلت على يحيى بن معين فوجدت عنده كذا وكذا سفطا،يعني دفاتر،وسمعته يقول:قد كتبت بيدي ألف ألف حديث وسمعته يقول:كل حديث لا يوجد ها هنا،وأشار بيده إلى الأسفاط،فهو كذب.(تهذيب الكمال،باب الياء، من اسمه يحي،ج:31،ص:543)
فإنهم لا يختلفون أن ابن المديني كان أعلم أقرانه بعلل الحديث،وعنه أخذ البخاري ذلك،ومع ذلك فكان ابن المديني إذا بلغه عن البخاري شيء يقول:ما رأى مثل نفسه،وكان محمد بن يحيى الذهلي أعلم أهل عصره بعلل حديث الزهري،وقد استفاد منه ذلك الشيخان جميعا. (تدريب الراوي،أنواع الحديث،النوع الأول،قولهم صحيح متفق عليه أو على صحته، ج:1،ص:141)
سماه الإمام البخاري (الجامع الصحيح المسند من حديث رسول صلى الله عليه وسلم وأيامه وسننه).وهو أصح الكتب بعد كتاب الله عز وجل، بذل فيه الإمام البخاري أقصى درجات الحيطة والتثبت، ومن ذلك:أ- الانتقاء، وهذه مرحلة علمية شاقة، روي عن الإمام البخاري قوله: "خرجت الصحيح من ستمائة ألف حديث"،وقوله: "لم أخرج في هذا الكتاب إلا صحيحا، وما تركت من الصحيح أكثر".ب- المبالغة في التروي والبحث بدقة عن المتيقّن، ودعم ذلك بالصلاة والاستخارة، قال البخاري رحمه الله: "ما كتبت في كتابي الصحيح حديثا إلا اغتسلت قبل ذلك، وصليت ركعتين". فيكون رحمه الله اغتسل عدد الأحاديث، وصلى ضعف عددها، بحثاً عن الصدق وبعداً عن الكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم.ج- اشترط أن يخرج الحديث المتفق على ثقة نقلته إلى الصحابي المشهور من غير اختلاف بين الثقات الأثبات، ويكون إسناده متصلا غير مقطوع وإن كان للصحابي راويان فأكثر فحسن، وإن لم يكن إلا راو واحد وصحّ الطريق إليه كفى .والبخاري- رحمه الله لم يكتف بمعاصرة الراوي لشيخه، بل اشترط اجتماعهما، وثبوت اللقاء بينهما،من هنا يعلم الدارس يقيناً أن الإمام البخاري بهذا المنهج الفريد قدم للأمة عملا ما سبقه إليه مثيل، ولن يلحقه بمثله مغير، لذلك صار كتابه بحق أصح الكتب بعد كتاب الله تعالى،وعلى صحة ما فيه وقبوله،أجمع علماء الأمة.(التنبيهات المجملة على المواضع المشكلة،القسم الأول،الفصل الثاني:معلومات موجزة عن الكتب التي أورد عليها التنبيهات ومؤلفيها،ص:31)
قال أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري:كنا عند إسحاق بن راهويه،فقال:لوجمعتم كتابا مختصرا لصحيح سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فوقع ذلك في قلبي فأخذت في جمع الجامع الصحيح وروينا بالإسناد الثابت عن محمد بن سليمان بن فارس قال سمعت البخاري يقول رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وكأنني واقف بين يديه وبيدي مروحة اذب بها عنه فسألت بعض المعبرين فقال لي أنت تذب عنه الكذب فهو الذي حملني على إخراج الجامع الصحيح.وقال الحافظ أبو ذر الهروي سمعت أبا الهيثم محمد بن مكي الكشميهني يقول:سمعت محمد بن يوسف الفربري يقول:قال البخاري:ما كتبت في كتاب الصحيح حديثا إلا اغتسلت قبل ذلك وصليت ركعتين وقال أبو على الغساني روى عنه أنه قال خرجت الصحيح من ستمائة ألف حديث وروى الإسماعيلي عنه قال لم أخرج في هذا الكتاب الا صحيحا وما تركت من الصحيح أكثر قال الإسماعيلي لأنه لو أخرج كل صحيح عنده لجمع في الباب الواحد حديث جماعة من الصحابة ولذكر طريق كل واحد منهم إذا صحت فيصير كتابا كبيرا جدا.(فتح الباري،المقدمة،الفصل الاول في بيان السبب الباعث لأبي عبد الله البخاري على تصنيف جامعه الصحيح وبيان حسن نيته في ذلك،ج:1،ص:7)
ولما أن تم عرضه على الإمام أحمد بن حنبل، ويحيى بن معين، وعلي بن المديني وغيرهم فاستحسنوه، وشهدوا له بالصحة إلا في أربعة أحاديث، قال العقيلي: والقول فيها قول البخاري، وهي صحيحةوقد تلقاه العلماء بالقبول في كل عصر، وشهدوا له بالتفوق على كل ما سبقه من المصنفات.(الحديث والمحدثون،الدور الخامس: السنة في القرن الثالث،المبحث الرابع: تدوين الحديث في هذا العصر وطريقة العلماء في ذلك،ص:378)